کوئٹہ ‘ مہنگائی روکنے میں تاخیر کے بعد انتظامیہ حرکت میں، دودھ فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری، 118 افراد گرفتار


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور عوامی شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کا دودھ فروشوں کے خلاف خود ساختہ مہنگائی پر سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ان کارروائی کے دوران مجموعی طور پر شہر بھر 225 دکانوں کا دورہ کیا گیا،118 افراد کو گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا جبکہ 46 دکانیں سیل کی گئیں تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات کی روشنی میں شہر بھر میں مہنگے دودھ کی فروخت اور خود ساختہ قیمتوں کے تعین کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد امیر حمزہ، اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ اور تحصیلدار سٹی ہمایون کاکڑ نے بروری روڈ، سبزل روڈ، کاسی روڈ، گوالمنڈی چوک، کواری روڈ، فقیر محمد روڈ اور جناح ٹاؤن میں کارروائیاں کیں۔اسی طرح اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی اور اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے نواں کلی، عالمو چوک، شابو، ہدہ، دیبہ اور ائیرپورٹ روڈ پر مہنگا دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) محمد امیر حمزہ نے کچلاک بازار اور خیزی چوک میں کارروائیاں کیں جبکہ اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد اچکزی اور اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے سیٹلائٹ ٹاؤن، پودگلی چوک، بلال کالونی، یونیورسٹی چوک اور بائپاس کے علاقوں میں کارروائیاں کیں۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ دودھ سمیت ضروری اشیائے خوردونوش کی خودساختہ قیمتوں پر فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائیاں جاری رہیں گی۔

WhatsApp
Get Alert