بلوچستان اسمبلی کا ماحول کشیدہ، اگرمدارس پرہاتھ ڈالنے کاسلسلہ بند نہ ہوا توحکومت کوچلتا کردیں گے ‘ ظفر آغا


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) اجلاس کے دوران رکن اسمبلی مولاناہدایت الرحمان نے مدارس کے معاملے پربات کرنیکی کوشش کی تاہم اسپیکر کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود مولاناہدایت الرحمان مسلسل بات کرتے رہے۔اسپیکر نے مولانا ہدایت الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اسمبلی کو چلنے نہیں دے رہے ہی ںمولاناہدایت الرحمان جب تک مسئلہ کھڑا نہ کریں توان کی روٹی ہضم نہیں ہوتی۔نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے جمیعت علماء اسلام کے رکن غلام دستگیربادینی نے کہاکہ میرے حلقے میں مدارس اورمساجد کو سیل کیا گیا ہے نہ پہلے نوٹس دیا گیا نہ اطلاع دی گئی ۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولاناہدایت الرحمن نے کہا کہ کیا بلوچستان کے سارے مسائل حل ہوگئے ہیں کہ اب حکومت مدارس کے پیچھے پڑگئی اگرمدارس کوبند کیاتوہم سڑکوں پرآجائیں گے،دینی تعلیم سڑکوں پر دیں گے ۔ جمعیت علماء کے رکن سید ظفر آغا نے کہا کہ اگرمدارس پرہاتھ ڈالنے کاسلسلہ بند نہ ہوا توحکومت کوچلتا کردیں گے۔ اجلاس کے دوران مدارس اور مساجد کو سیل کردیاگیااس موقع پر اپوزیشن ارکان نے مدارس کو بند کرنے کے خلاف ایوان سے واک آوٹ کیا ۔ بعدازاں حکومتی ارکان کے منا کر لانے پر اپوزیشن ارکان دوبارہ ایوان میں آگئے ۔

WhatsApp
Get Alert