حکومت خاموش، کوئٹہ میں پولیس فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت نے کئی سوالات اٹھا دیئے، شہری حلقے


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے جناح ٹان میں پولیس کی مبینہ فائرنگ سے 20 سالہ نوجوان کے جاں بحق ہونے کے واقعے نے شہر بھر میں تشویش، غم و غصے اور کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ واقعے کے بعد نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ شہری حلقوں کی جانب سے بھی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق جاں بحق نوجوان کی شناخت سفیر باجوہ کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر سریاب کے علاقے سے ایک کابلی گاڑی لے کر جا رہا تھا۔ پولیس کا ابتدائی مقف ہے کہ گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم ڈرائیور کی جانب سے گاڑی نہ روکنے پر جناح ٹان کے علاقے میں فائرنگ کی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کا مقصد مشتبہ گاڑی کو روکنا تھا، تاہم واقعے میں نوجوان جان کی بازی ہار گیا دوسری جانب مقتول کے اہل خانہ نے پولیس کے اس مقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ نوجوان پر بلاجواز اور غیر ضروری فائرنگ کی گئی۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر گاڑی مشکوک بھی تھی تو پولیس کے پاس تعاقب، ناکہ بندی یا دیگر قانونی طریقہ کار موجود تھے، براہ راست فائرنگ کسی صورت مناسب اقدام نہیں تھا سول ہسپتال ذرائع نے یو این سے کو بتایا کہ واقعے کے فورا بعد زخمی نوجوان کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ بعد ازاں قانونی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم نہ کرانے کی ہدایت کی، جس کے باعث واقعے کے بعض پہلوں پر مزید سوالات بھی اٹھ رہے ہیں ذرائع نے مزید بتایا کہ واقعے کے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود جناح ٹان پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نہ جائے وقوعہ پر پہنچے اور نہ ہی سول ہسپتال میں اہل خانہ سے رابطہ کیا گیا، جس پر بھی شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح محکمہ داخلہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے بھی واقعے پر فوری اور واضح مقف سامنے نہیں آیا، جس سے صورتحال مزید حساس ہوتی جا رہی ہے یو این اے کے مطابق واقعے کے بعد جناح ٹان اور اطراف میں کشیدگی کی فضا دیکھی گئی جبکہ سوشل میڈیا پر بھی پولیس کارروائی پر سخت تنقید سامنے آ رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طاقت کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے تاکہ بے گناہ جانوں کا ضیاع نہ ہو متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، فائرنگ میں ملوث اہلکاروں کا تعین کیا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ شہری حلقوں اور سماجی کارکنوں نے بھی اس واقعے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے حکومت بلوچستان اور پولیس حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے واقعے نے ایک بار پھر پولیس کے اختیارات، طاقت کے استعمال اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کے جوابات عوام اب حکام سے چاہتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert