بلوچستان ، قبائلی تصادم، ٹارگٹ کلنگ اور حادثات میں خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق، ہرنائی سے 3 کان کن اغوا، گیس پائپ لائن تباہ آوارہ کتوں کے کاٹنے سے 22 افراد زخمی

جھل مگسی، صحبت پور، خضدار، بھاگ، ڈیرہ مراد جمالی، سوئی، لورالائی، سبی، ہرنائی: ( قدرت نیوز ) بلوچستان کے مختلف اضلاع میں قتل و غارت گری، قبائلی تصادم، اغوا، تخریب کاری اور حادثات کے باعث صوبے کی فضا سوگوار رہی۔ مختلف واقعات میں ایک خاتون اور سبزی فروش سمیت 4 افراد جان کی بازی ہار گئے اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ہرنائی سے 3 کان کنوں کو اغوا کر لیا گیا اور صحبت پور میں گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔ دوسری جانب خضدار پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات اسمگلر کو گرفتار کر لیا، جبکہ سوئی میں پاگل کتوں نے دو درجن کے قریب افراد کو کاٹ کر زخمی کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق ضلع جھل مگسی کی تحصیل گنداواہ کے نواحی علاقے گوٹھ راہوجہ میں سیاہ کاری اور پرانی دشمنی کے تنازع پر راہوجہ اور ڈیتھہ برادری کے درمیان خونی تصادم ہوا۔ دونوں گروپوں میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں ڈیتھہ برادری کے دو افراد عبدالقادر ولد محمد رمضان اور جان محمد ولد گل محمد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ بدل خان، فضل محمد اور میر حسن شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر حالات کو کنٹرول کیا اور لاشوں و زخمیوں کو ضلعی ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش جاری ہے۔
ادھر صحبت پور کی تحصیل پہنور سنہڑی کے بازار میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے سبزی فروش عبدالنبی گھنیہ کو قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔ واقعے کے خلاف ورثاء اور تاجر برادری نے لاش سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج کیا اور سندھ بلوچستان کو ملانے والی شاہراہ بلاک کر دی۔ بعد ازاں پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کی یقین دہانی پر مظاہرین نے سڑک کھول دی اور مقتول کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ فائرنگ کا ایک اور واقعہ کچھی کے علاقے بھاگ میں پیش آیا جہاں سٹی غریب آباد محلے میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون جاں بحق ہو گئی۔ لاش ہسپتال منتقل کر دی گئی تاہم قتل کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔ اسی طرح سبی کے قریب ایک شخص نے چھریوں کے وار کر کے اپنے ماموں مہراب ولد میر ہزار کلاچی کو شدید زخمی کر دیا اور فرار ہو گیا، زخمی کو سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔
صوبے میں تخریب کاری اور اغوا کے واقعات نے بھی عوام اور انتظامیہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زہری لیز کے علاقے میں واقع ایک کوئلہ کان پر نامعلوم مسلح افراد نے دھاوا بولا اور تین کان کنوں عبدالرزاق، عصمت اللہ اور حمید اللہ کو اغوا کر کے نامعلوم سمت لے گئے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے مغویوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب صحبت پور میں بہادر پل کے نیچے سے گزرنے والی 8 انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو نامعلوم تخریب کاروں نے کریکر دھماکے سے اڑا دیا۔ واقعے کے باعث صحبت پور، تحصیل مانجھی پور اور تحصیل حیردین کو گیس کی فراہمی معطل ہو گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقہ سیل کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے، جبکہ گیس حکام کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر متاثرہ پائپ لائن بحال کر دی جائے گی۔
جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے خضدار پولیس نے ایس ایس پی دوستین دشتی کی ہدایت پر وڈھ کے علاقے میں کامیاب چھاپہ مارا۔ ایس ایچ او وڈھ سراج احمد چھٹہ نے گاسلیٹی ایریا میں کارروائی کرتے ہوئے منشیات اسمگلر عبدالقاہر کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے 6 کلو گرام (6000 گرام) چرس اور ایک سفید رنگ کی فارچونر گاڑی (نمبر BH-5418) برآمد کر لی۔ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں، عوامی صحت اور حادثات کے حوالے سے لورالائی اور سوئی سے افسوسناک اطلاعات موصول ہوئیں۔ لورالائی کے علاقے مہاجر کیمپ کٹوی میں منگل کے روز ایک مکان کی خستہ حال دیوار گرنے سے نعمت اللہ نامی شخص ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گیا جس کی لاش ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ جبکہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی ٹاؤن اور اس کے گردونواح میں پاگل (باولے) کتوں نے 5 خواتین اور 6 بچوں سمیت 22 افراد کو کاٹ کر شدید زخمی کر دیا۔ تمام متاثرہ افراد کو فوری طور پر انڈس ہسپتال سوئی منتقل کیا گیا جہاں انہیں اینٹی ریبیز ویکسین لگا کر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
