درمیانی عمر کی وہ عام ترین عادت جو ہارٹ اٹیک کا شکار بنا سکتی ہے

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)ہارٹ اٹیک کا سامنا کسی فرد کو اس وقت ہوتا ہے جب دل کی جانب خون کا بہاؤ بہت زیادہ گھٹ جائے یا بلاک ہوجائے۔
عموماً شریانوں میں چکنائی، کولیسٹرول اور دیگر مواد کا اجتماع دل تک خون کے بہاؤ میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
کولیسٹرول کے اجتماع کو plaque کہا جاتا ہے اور کئی بار اس کے باعث بلڈ کلاٹ کا سامنا ہوتا ہے اور خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔
اب دریافت ہوا ہے کہ درمیانی عمر کی ایک بہت عام عادت ہارٹ اٹیک کا شکار بناسکتی ہے۔
روزانہ ایک سیب کھانے کی عادت ایک بہت عام دائمی مرض سے بچانے کیلئے مفید
درحقیقت اگر آپ ہر رات سونے کے لیے بستر پر مختلف اوقات میں جانے کے عادی ہیں تو اس سے دل کے سنگین امراض بالخصوص ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔
یہ بات فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
Oulu یونیورسٹی کی تحقیق میں سونے کا کوئی وقت مقرر نہ ہونے اور دل کے سنگین مسائل کے درمیان مضبوط تعلق کو دریافت کیا گیا۔
خاص طور پر ایسے افراد جن کی نیند کا دورانیہ 8 گھنٹوں سے کم ہوتا ہے، ان میں یہ خطرہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
ہارٹ اٹیک سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں؟ تو ان 8 آسان عادات کو زندگی کا حصہ بنالیں
اس تحقیق میں 1966 میں پیدا ہونے والے 3231 افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی نیند کی عادات کو ایک ہفتے کے لیے اس وقت ٹریک کیا گیا، جب ان کی عمر 46 سال تھی۔
اس کے بعد مزید 10 سال سے زائد عرصے تک ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔
ان کی نیند کے دورانیے اور بستر پر لیٹنے کے وقت کی ٹریکنگ کی گئی اور دیکھا گیا کہ وہ کتنی دیر تک بستر پر رہتے ہیں۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ بستر پر سونے کے لیے جانے کے وقت کا تسلسل دل کی صحت کے لیے بہت اہم عنصر ہے۔
کافی پینے کی عادت سے مرتب ہونے والے حیرت انگیز اثر کا انکشاف
محقققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ سونے کے لیے لیٹنے کے وقت کا تسلسل زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نیند کے معمول کو عادت بنانا وقت کے ساتھ دل کی صحت پر اثرات مرتب کرتا ہے اور اگر آپ کے سونے کا کوئی وقت مقرر نہیں تو ہارٹ اٹیک یا دیگر امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل BMC Cardiovascular Disorders میں شائع ہوئے۔
