فورسز کی کامیابی پر قوم کا سر فخر سے بلند ہے،شفیع جان


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)اے بی این نیوز کے پروگرام تجزیہ میں گفتگو کرتے ہوئے سیاسی رہنما شفیع جان Shafi Janنے ملکی سلامتی، سیاسی صورتحال اور ادارہ جاتی معاملات پر سخت مؤقف اپنایا۔ ان کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع ہر شہری کا اولین قومی فریضہ ہے اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف حالیہ واقعات میں فورسز کی کامیابی پر قوم کا سر فخر سے بلند ہے اور ملک کی سرحدوں کے ایک ایک انچ کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق مختلف خطوں میں اس کامیابی کے حوالے سے عوامی سطح پر خوشی کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
سیاسی گفتگو کے دوران انہوں نے عدالتی معاملات اور سیاسی کیسز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقدمات کی سماعت اور عملدرآمد کے طریقہ کار پر سوالات موجود ہیں، جبکہ مختلف درخواستوں پر طویل عرصے سے پیش رفت نہ ہونے پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود بعض سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں پر پابندیاں برقرار ہیں۔
شفیع جان نے کہا کہ ریاستی نظام میں بعض سیاسی جماعتوں کے لیے قانون اور انصاف کے دوہرے معیار اپنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت میں فیصلہ کن اختیار صرف مرکزی قیادت کے پاس ہے اور تمام تنظیمی فیصلے اسی کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
سیاسی حکمت عملی سے متعلق گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی اور تنظیمی فیصلے پارٹی کی سیاسی کمیٹی اور اتحادی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ بعض حساس فیصلوں میں قیادت کی رائے شامل ہوتی ہے اور تنظیمی ڈھانچے میں اہم تعیناتیوں کا اختیار بھی مرکزی قیادت کے پاس ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سیاسی حکمت عملی، احتجاجی اقدامات اور تنظیمی سرگرمیوں کے حوالے سے پارٹی مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق سیاسی عمل، مذاکرات اور احتجاجی فیصلے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا شہریار احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جرات مندانہ فیصلوں کی بدولت ملک کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا ہے۔ ان کے مطابق بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان پاکستان کا ثالثی کردار خارجہ پالیسی کی اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں حکومت اور اپوزیشن کو قومی مفاد پر ایک ہونا چاہیے۔
قوم اپنی مسلح افواج پر مکمل اعتماد رکھتی ہے اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر تمام محب وطن شہری ملک کی ترقی کیلئے متحد ہیں۔ انہوں نے عدلیہ سے متعلق گفتگو میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کو عدالتی فیصلوں پر ردعمل دینے کی بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے اور عدلیہ کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنا ملک کے مفاد میں نہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے فی الحال کوئی باقاعدہ مسودہ سامنے نہیں آیا اور اس بارے میں وزارت قانون ہی بہتر وضاحت دے سکتی ہے۔
دوسری جانب ایک اور سیاسی رہنما نے گفتگو میں ملکی سرحدوں کے دفاع، اداروں کے کردار اور سیاسی صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کے مطابق ریاستی نظام میں بعض معاملات پر دوہرے معیار پائے جاتے ہیں اور مختلف جماعتوں کو قانونی ریلیف میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے عدالتی کارروائیوں اور سیاسی کیسز کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
گفتگو میں یہ بھی کہا گیا کہ سیاسی جماعت کی قیادت کے فیصلے اہم تنظیمی تبدیلیوں اور احتجاجی حکمت عملی میں مرکزی کردار رکھتے ہیں۔ بعض رہنماؤں کے مطابق سیاسی فیصلے اتحادی مشاورت اور پارٹی کمیٹیوں کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert