وفاقی حکومت کا آئندہ بجٹ میں مراعات سے متعلق بڑا فیصلہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے برآمدات (ایکسپورٹس) کو کلیدی اہمیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں برآمدات کے فروغ کے لیے کارکردگی پر مبنی مراعات متعارف کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اجلاس میں وزیرِ مملکت خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک اور سیکریٹری خزانہ سمیت معاشی ٹیم کے اہم ارکان نے شرکت کی۔
ٹارگٹڈ سہولیات اور انفراسٹرکچر پر توجہ
احد خان چیمہ نے اجلاس کے دوران واضح کیا کہ صرف ٹیکسوں میں کمی کرنا برآمدات بڑھانے کا واحد حل نہیں ہے، بلکہ حکومت انفراسٹرکچر کی بہتری اور دیگر عوامل پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کو ایسی سہولیات دی جائیں گی جو براہِ راست ان کی کارکردگی سے جڑی ہوں گی۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو عالمی منڈیوں تک رسائی دلانے کے لیے بجٹ میں خصوصی فنڈز اور اقدامات کی منظوری دی جائے گی۔
مصنوعات کی ورائٹی اور ویلیو ایڈیشن
وفاقی وزیر نے پائیدار ایکسپورٹ فریم ورک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو روایتی مصنوعات سے ہٹ کر برآمدی مصنوعات میں تنوع اور ویلیو ایڈیشن (قدر میں اضافہ) لانا ہوگا۔ جو ادارے حکومت کے دیے گئے برآمدی اہداف پورے کریں گے، انہیں ہر ممکن مالی اور انتظامی تعاون فراہم کیا جائے گا۔
پاکستان کا تجارتی خسارہ اور معاشی چیلنجز
پاکستان طویل عرصے سے تجارتی خسارے کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جہاں درآمدات ہمیشہ برآمدات سے زیادہ رہی ہیں۔ ماضی میں دی جانے والی مراعات عموماً غیر ٹارگٹڈ تھیں، جس کی وجہ سے برآمدی حجم میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔
موجودہ معاشی صورتحال، خاص طور پر عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں، حکومت اب ‘ایکسپورٹ لیڈ گروتھ’ (برآمدات پر مبنی ترقی) کو ناگزیر سمجھتی ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیا جا سکے۔
کارکردگی پر مبنی فریم ورک کے اثرات
پہلی بار مراعات کو محض کاروبار کرنے پر نہیں بلکہ ’کارکردگی‘ اور ’اہداف کی تکمیل‘ سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ان اداروں کی حوصلہ شکنی کرے گا جو صرف سبسڈیز پر انحصار کرتے ہیں۔
چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈی کا حصہ بنانے سے نچلی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی معیشت کی بنیاد مضبوط ہوگی۔
پالیسی سازی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت ایک قابلِ عمل اور طویل مدتی معاشی منصوبہ بنانا چاہتی ہے جسے صنعت کاروں کی حمایت حاصل ہو۔
احد چیمہ کا انفراسٹرکچر پر زور دینا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت لاجسٹکس، پورٹس اور بجلی کی فراہمی جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے بجٹ میں رقم مختص کرے گی۔
