شاہد آفریدی کا اپنی بیٹیوں کے موبائل استعمال سے متعلق حیرت انگیز انکشاف

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ دینی اور دنیاوی تعلیم دونوں نہایت ضروری ہیں، تاہم بچوں کی اصل اور مؤثر تربیت کی سب سے بڑی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر تربیت درست نہ ہو تو دین اور دنیا کی تعلیم کا مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
ایک نجی اسکول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ والدین عموماً بہت کم عمری میں، یعنی ڈھائی سے تین سال کے بچوں کو اسکولوں کے حوالے کر دیتے ہیں جو ان کے مطابق ایک بڑی غلطی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہیں تاہم اب ان کا ماننا ہے کہ بچوں کی 5 سال کی عمر تک بنیادی تربیت گھر میں ہونا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے ماں باپ سے بہتر کوئی استاد نہیں ہو سکتا۔
شاہد آفریدی کی بچوں کی تربیت سے متعلق دلچسپ گفتگو۔۔۔ اسلام آباد میں اسکول کی تقریب میں پہلا خطاب@SAfridiOfficial pic.twitter.com/VKNE4qs06i
— Ehtisham ul haq (@ehtishamulhaq87) May 10, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن اگر بچے کی تربیت اچھی ہو تو وہ ہمیشہ صحیح راستے کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اس لیے والدین کو تعلیم سے زیادہ تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔
شاہد آفریدی نے آج کے دور میں والدین کی جانب سے بچوں کو خاموش کرانے کے لیے موبائل فون دینے کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی اولاد کو اس عادت سے دور رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو نکاح کے بعد موبائل فون دیا۔
