صوبے میں بدامنی، دہشتگردانہ اور سفاکانہ واقعات کا تسلسل دراصل حکومتی سرپرستی میں جاری ہے: پشتونخوا میپ

حکومتی رٹ کے بیانات عوام کی آنکھوں میں دھول جونکنے کے مترادف، صوبے کے کسی بھی ضلع میں امن نہیں رہا، شاہراہیں انتہائی خطرناک بن چکیں شیرعلی باچا کی 28ویں برسی پر تعزیتی ریفرنس؛ محمود خان اچکزئی کی جانب سے 29 تا 31 اگست کوئٹہ میں سہ روزہ جرگہ منعقد ہوگا


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سابق مرکزی جنرل سیکرٹری اروشاد شیرعلی باچا کی 28ویں برسی کے موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین عبدالرؤف لا لا کے زیر صدارت تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔ جس سے پشتونخوا میپ کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال اور مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے شیرعلی باچا کی پشتون قومی حقوق کیلئے غیر متزلزل عزم اور قوم دوست سیاست اور ان کے اعلیٰ قومی، سیاسی جمہوری اور ادبی خدمات پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیر علی باچا نے قومی سیاست کا آغاز 1963 میں کیا۔ انہوں نے پاکستان مزدور کسان پارٹی بنائی، 1986 میں برصغیر پاک و ہند اور پشتونخوا وطن کے آزادی کے قافلے کے عظیم سالار خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی پارٹی پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور پشتونخوا مزدور کسان پارٹی کا باقاعدہ انضمام ہوا جس کے نتیجے میں پہلے پشتونخوا ملی عوامی اتحاد اور بعد میں اسے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا نام دیا گیا۔ شیر علی باچا کی اپنی وطن، مٹی، قوم اور ملت سے محبت اپنی جگہ لیکن ایک منظم تنظیم اور پارٹی ڈسپلن کے منشوروآئین اور پارٹی بانی خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے سیاسی فلسفے اور وژن سے محبت کی مثال اپنی جگہ برقرارتھی۔ پشتونخو املی عوامی پارٹی شیر علی باچا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملی اور ارمانوں کی تکمیل کرے گی۔ مقررین نے کہا کے آج ملک پر کٹھ پتلی زر و زور اور فارم 47کی غیر نمائندہ حکومت مسلط ہے۔ ملکی آئین کی بحالی، جمہور کی حکمرانی میں رکاوٹیں ڈالنے، عدلیہ کے پر کاٹنے، صحافت کا گلہ گھونٹنے اور سیاسی عدم استحکام بڑھنے کی وجہ سے ملک ہمہ جہت بحرانوں کا شکار ہوچکا ہے۔پشتونخوا میپ کے چیئرمین و تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی قیادت میں آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن کے قیام،جمہوریت، رول آف لاء اور آئین میں متعین کردہ دائرہ کار میں تمام اداروں کو اپنے فرائض کا پابند بنانے کیلئے جاری جدوجہد کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں اور پشتونخوا وطن کے عوام نے اپنا قومی سیاسی جمہوری فریضہ ادا کرنا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ صوبے میں بدامنی کی جاری لہر، دہشتگردانہ، سفاکانہ واقعات کا تسلسل دراصل حکومتی سرپرستی میں جاری ہے جس کے باعث بے گناہ نہتے انسانوں کا خون ناحق بہایا جارہا ہے۔ پشتونوں کے جائیدادوں،املاک،کروڑوں کی گاڑیوں کو جلانے، قتل و غارت، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث کسی بھی واقعے کے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔جبکہ حکومتی رٹ کے بیانات عوام کی آنکھوں میں دھول جونکنے کے مترادف ہے۔ کوئٹہ کراچی، کوئٹہ تفتان،کوئٹہ سکھر اور کوئٹہ ڈیرہ غازی خان شاہراہیں یاتو بند ہے اور یا سفر کرنے کو انتہائی خطرناک بن چکے ہیں۔صوبے کے کسی بھی ضلع میں امن نہیں رہا۔ شاہراہوں پر مسلح افراد کا شہریوں کو لوٹنا، گاڑیوں پر فائرنگ، گاڑیاں چھیننا، مال بردار لوڈ گاڑیوں کو خالی کرانا،ڈرائیوروں پر تشدد اغوا کرنے کے واقعات سے تمام عوام بلخصوص پشتون شدید مالی و جانی نقصانات سے دوچار ہورہے ہیں۔ پارٹی کے محبوب چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی کی جانب سے 29، 30، 31 اگست 2026 کو کوئٹہ میں ایک سہ روزہ جرگہ منعقد ہوگا اور اس جرگے میں شرکاء موجودہ حالات اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اپنی قیمتی تجاویز باہمی مشاورت سے قوم کو آگاہ کرینگے اور پرامن خوشحال مستقبل کیلئے فیصلے ہوں گے اور بنوجرگہ 2022 کے فیصلوں کی روشی میں یہ جرگہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert