گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سریاب روڈ میں 22 سال سے کلاسز کی معطلی؛ بلوچستان ہائی کورٹ کا سخت برہمی کا اظہار
عوامی فنڈز کا ضیاع برداشت نہیں، سیکرٹری کالجز اور پرنسپل آئندہ سماعت پر طلب؛ ادارے کو فعال بنانے کے لیے جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم

کسی تعلیمی ادارے کا مسلسل غیر فعال رہنا طلباء کے مستقبل اور کیریئر کو تباہ کرنے کے مترادف ہے: دو رکنی بینچ کے ریمارکس
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس اقبال احمد کاسی اور جسٹس میاں محمد رؤف عطا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سریاب روڈ کوئٹہ میں گزشتہ 22 سال سے تعلیمی سرگرمیاں اور کلاسز معطل رہنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے جامع رپورٹ طلب کرلی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عمران بلوچ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل چنگیز دشتی اور مدعا علیہ نمبر 4 کے وکیل ایمل خان کاکڑ کو تفصیل سے سنا گیا۔ فریقین کے وکلاء کے دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سریاب روڈ کوئٹہ میں گزشتہ 22 برس سے کلاسز معطل ہیں۔عدالت عالیہ نے تعلیمی سرگرمیوں کی اتنی طویل معطلی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی تعلیمی ادارے کا مسلسل غیر فعال رہنا نہ صرف طلباء کے لیے مشکلات کا باعث ہے بلکہ ان کی تعلیم، مستقبل اور پیشہ ورانہ کیریئر کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔ عدالت نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ عوامی فنڈز سے قائم کیے گئے ادارے اور اس کے انفراسٹرکچر پر ہونے والے سرکاری اخراجات طویل عرصے تک ادارہ غیر فعال رہنے کی صورت میں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر سیکرٹری کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، حکومت بلوچستان اور پرنسپل گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سریاب روڈ کوئٹہ کی ذاتی حاضری یقینی بنائی جائے۔عدالت نے متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، جس میں گزشتہ 22 سال سے کلاسز کی معطلی کی وجوہات، تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے محکمہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور ادارے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل واضح کیا جائے۔عدالت نے سیکرٹری سے کالج کی موجودہ صورتحال، تدریسی و غیر تدریسی عملے کی دستیابی، طلباء داخلوں، عمارت و بنیادی ڈھانچے، آلات اور دیگر ضروری سہولیات سے متعلق بھی تفصیلی معلومات طلب کرلی ہیں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ کلاسز کے دوبارہ اجرائکے لیے ایک واضح، قابلِ عمل اور مقررہ مدت پر مبنی منصوبہ بھی پیش کیا جائے۔دو رکنی بینچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے اور آئندہ سماعت پر محض عمومی یا روایتی وضاحتیں پیش کرنے کے بجائے ٹھوس اقدامات اور عملی پیش رفت عدالت کے سامنے رکھی جائے۔عدالت نے واضح کیا کہ رپورٹ میں ادارے کو فعال بنانے کے لیے کیے گئے حقیقی اقدامات کی عکاسی ہونی چاہیے تاکہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کو دوبارہ فعال کیا جاسکے اور طلباء کو ان کے بنیادی حقِ تعلیم سے محروم نہ رہنا پڑے۔کیس کی آئندہ سماعت 10 ستمبر 2026 کو ہوگی۔
