لوگوں کے جو بچے اوور ڈوز سے مرگئے، پولیس نے وہ بھی مجھ پر ڈال دیئے، پنکی کے الزامات

مجھے تشدد کا نشانہ بنایا، تھپڑ مارا اور مجھے تفتیشی افسر نے دھمکیاں دیں، یہ لوگ مجھے 20 سال پرانے گھر میں لے کرگئے، جہاں انہوں نے منشیات رکھی اور مجھے بولا منشیات اٹھاؤ؛ میڈیا سے غیررسمی گفتگو


کراچی(قدرت روزنامہ)کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی نے اپنی گرفتاری اور الزامات کے حوالے سے مزید دعوے کردیئے، پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دے دیا۔ منشیات اسمگلنگ اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پولیس کی پوری کارروائی کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دے دیا ہے، ملزمہ نے دعویٰ کیا کہ اسے نا صرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ایسے جرائم بھی اس کے کھاتے میں ڈال دیئے گئے جو اس نے کیے ہی نہیں۔
ملزمہ پنکی نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکار اسے ایک ایسے گھر میں لے کر گئے جو گزشتہ 20 سالوں سے بند پڑا تھا، پولیس نے وہاں خود منشیات رکھی اور پھر مجھے زبردستی اسے اٹھانے کا حکم دیا تاکہ میری گرفتاری ظاہر کی جا سکے، پولیس نے شہر میں منشیات کی اوور ڈوز سے مرنے والے بچوں کے مقدمات بھی مجھ پر ڈال دیئے۔
ملزمہ نے پولیس حراست کے دوران اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، میرے منہ پر تھپڑ مارے گئے اور تفتیشی افسر نے مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں تاکہ میں ان کے مطالبات مان لوں۔


دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے ایسے بیانات ملزمہ کی جانب سے ہمدردی حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دیئے جا رہے ہیں، پولیس کا مؤقف ہے کہ پنکی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، انمول عرف پنکی پر کراچی کے مختلف تھانوں میں منشیات فروشی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں اور اسے شہر کے سب سے بڑے منشیات نیٹ ورک کی اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert