پاکستانی روپیہ 20 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب، ڈالر اور درہم کے مقابلے میں نمایاں بہتری


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر اور متحدہ عرب امارات کے درہم کے مقابلے میں 20 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ جسے معاشی ماہرین کرنسی کے استحکام کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق روپے کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ڈالر کے مقابلے میں شرح مبادلہ 278 سے نیچے اور تقریباً 277.4 کے قریب ٹریڈ کرتی رہی، جبکہ درہم کے مقابلے میں روپے کی قدر 75.5 کے قریب رہی۔
گزشتہ 10 ماہ کے دوران پاکستانی روپیہ 3 فیصد سے زائد مضبوط ہوا ہے۔ جس کی بڑی وجوہات میں زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی معاونت شامل ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو اپریل 2025 میں 14.75 ارب ڈالر سے بڑھ کر موجودہ ماہ میں 22.59 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
معاشی رپورٹ کے مطابق ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ اپریل 2026 میں 105.8 تک بڑھ گیا، جو مارچ کے 104.3 کے مقابلے میں بہتری ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اپریل 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 324 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ ماہ کے سرپلس کے برعکس ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق روپے کی حالیہ بہتری میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام، سعودی عرب کی مالی معاونت اور سخت مالی و مانیٹری پالیسیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلند شرح سود، توانائی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ اور مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ نظام نے کرنسی پر دباؤ کم کیا۔ جبکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی بہتری آئی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئی ایم ایف قسطوں میں تاخیر، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا سیاسی و سیکیورٹی صورتحال میں بگاڑ روپے پر دوبارہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert