گولی کی زبان میں بات کرنے والوں کے لیے بارڈر کھلا ہے مگر چمن بارڈر بند، یا تمام بارڈرز بند ہوں یا چمن کو کھولنا ہوگا، محمود خان اچکزئی

ہر گھر سے ایک فرد دیں، اپنا قومی لشکر بنائیں گے، خاردار تار امریکہ کی فرمائش پر لگی، قینچیاں پکڑیں اسے کاٹیں گے، ہر پشتون تذکرہ بنائے اور فخر سے دکھائے


عدالتوں سے امیدیں نہ رکھیں، ہم خود مل بیٹھ کر مسائل حل کریں گے، چمن میں جلسہ عام سے خطاب
کوئٹہ / چمن (ڈیلی قدرت کوئٹہ) سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان، چیئرمین پشتونخواملی عوامی پارٹی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے عید کے تیسرے روز چمن میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سن لو! آپ کے ساتھ گولی کی زبان میں بات کرنے والوں کے لیے بارڈر کھلا ہے مگر چمن بارڈر بند ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ یا تو تمام بارڈرز بند کیے جائیں، ورنہ چمن بارڈر کو ہر صورت کھولنا ہوگا۔
محمود خان اچکزئی نے جلسے کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے حالات میں چمن آئے ہیں جب وطن پر ہر طرف سے بدقسمتی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ میں چمن کے لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تم بھوکے ہوئے، تمہارے لیے دروازے بند ہوئے اور میں تمہارے ساتھ کھڑا نہ ہوا، تو میں پشتون نہیں ہوں گا، لیکن آپ کو بھی میرے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ آزادی کی جنگ لڑیں گے، پھر بھی تفتان بارڈر کھلا رہے گا، وہ کاروبار کریں گے اور چمن کے لوگوں کے لیے دروازے بند رکھے جائیں گے، ایسا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کسی کو اس پر مزے لینے دیں گے۔

قائد حزب اختلاف نے اعلان کیا کہ ہر گھر سے ایک ایک فرد دیں، ہم اپنا ایک قومی لشکر بنائیں گے۔ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا، تاہم یہ ایسا لشکر ہوگا جو کسی کو گالی گلوچ نہیں کرے گا بلکہ صرف وطن کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خاردار تار امریکہ کی فرمائش پر لگائی گئی ہے، اس تار کو کاٹنے کے لیے قینچیاں پکڑیں، میں آپ کے ساتھ ہوں اور ہم مل کر اس تار کو اکھاڑیں گے۔ حکومت چمن کے لوگوں سے ٹیکس لے لیکن انہیں تجارت کا راستہ فراہم کرے۔
دوہری شہریت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ لاکھوں پاکستانیوں کے پاس کینیڈا، اٹلی اور دیگر ممالک کی دوہری شہریت موجود ہے، لہٰذا ہر پشتون کو چاہیے کہ وہ اپنا ‘تذکرہ’ (افغان شناختی کارڈ) بنائے اور کھلے عام لوگوں کو فخر سے دکھائے کہ میرے پاس یہ تذکرہ موجود ہے۔
افغانستان اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ لوگ افغانستان کے معاملات میں مداخلت بند کریں۔ افغانستان تاریخی لحاظ سے ہمیشہ آزاد رہا ہے، اگر افغانستان ٹوٹا تو یاد رکھیں پاکستان اور ایران بھی ٹوٹ جائیں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک مل بیٹھیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر افغانستان کی موجودہ حکومت اپنے لوگوں پر ظلم اور زیادتیاں کر رہی ہوئی، تو سب سے پہلے ہم افغانستان کے حکمرانوں کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

تاریخی تناظر کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب ون یونٹ ٹوٹا تو پشتونوں کو اس طرح تقسیم کیا گیا کہ وہ اپنی شناخت ہی بھول گئے۔ بلوچ حیران تھے کہ کیا کریں گے، لیکن آسمان سے تحفے کی شکل میں انہیں صوبہ مل گیا۔ انہوں نے چمن کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ چمن کے لوگوں نے خان شہید کے ساتھ لازوال قربانیاں دیں، تمام قومیں ان کے ساتھ کھڑی ہوئیں اور انہیں صوبائی اسمبلی تک پہنچایا۔ یہ چمن کے لوگوں کا پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پر بہت بڑا احسان ہے، اور اب اس کی حفاظت میں بھی آپ ہمارا ساتھ دیں گے۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب کے آخر میں عوام پر زور دیا کہ پاکستان کی عدالتوں سے زیادہ امیدیں وابستہ نہ رکھیں۔ ہم خود آپس میں مل بیٹھیں گے اور اپنے وطن کے مسائل خود حل کریں گے۔<

WhatsApp
Get Alert