کوئٹہ کے کالجوں میں پشتو ڈیپارٹمنٹس کو غیر فعال کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے، پشتونخوا نیپ

پشتو اساتذہ کے تبادلوں کو زبان، ادب، ثقافت اور قومی شناخت کے خلاف منظم سازش قرار دے دیا


پشتو زبان و ادب کے شعبوں کو کمزور کرنا تعلیمی ناانصافی ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی
پشتو ڈیپارٹمنٹس فوری فعال، تبادلہ شدہ اساتذہ واپس تعینات کیے جائیں، پشتونخوا نیپ
مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم کرنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے، پارٹی بیان
پشتو زبان کے خلاف ناانصافی پر خاموش نہیں رہیں گے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کوئٹہ کے مختلف کالجوں، بالخصوص گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج کوئٹہ کینٹ میں پشتو ڈیپارٹمنٹ کے تمام پروفیسرز اور لیکچررز کے تبادلوں اور پشتو ڈیپارٹمنٹ کو عملاً غیر فعال بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پشتو زبان، ادب، ثقافت اور قومی شناخت کے خلاف ایک منظم سازش قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتو صوبے کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں شامل ہے، جبکہ کوئٹہ شہر، اس کے مضافاتی علاقوں اور جنوبی پشتونخوا کے وسیع خطے میں پشتو بولنے والوں کی واضح اکثریت آباد ہے۔ اس کے باوجود تعلیمی اداروں میں پشتو زبان و ادب کے شعبوں کو کمزور کرنا، اساتذہ کے تبادلے کرنا اور طلبہ و طالبات کو اپنی مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم کرنا نہ صرف تعلیمی ناانصافی ہے بلکہ آئین پاکستان میں دیے گئے لسانی، ثقافتی اور تعلیمی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پشتو کروڑوں انسانوں کی مادری زبان، ایک عظیم علمی، ادبی اور ثقافتی ورثے کی امین اور اس خطے کی تاریخی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اس زبان نے ادب، شاعری، تحقیق، تاریخ اور ثقافت کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ لہٰذا اس کی ترقی، ترویج اور تدریس کے لیے عملی اقدامات کرنا حکومت اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے، نہ کہ ایسے فیصلے کیے جائیں جن سے پشتو زبان و ادب کے تعلیمی شعبے کمزور ہوں یا ان کا وجود خطرے سے دوچار ہو جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ صوبے کے تعلیمی اداروں میں پشتو، بلوچی، براہوی اور دیگر قومی زبانوں کے فروغ کے بجائے ان کے شعبوں کو محدود کرنا انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ کسی بھی زبان کی بقا اور ترقی کا انحصار اس کی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں پر ہوتا ہے، اور اگر تعلیمی اداروں سے زبانوں کے شعبے ختم یا غیر فعال کر دیے جائیں تو اس کے دور رس اور منفی اثرات پوری قوم اور آنے والی نسلوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے محکمہ تعلیم، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پشتو ڈیپارٹمنٹس کو فوری طور پر فعال بنایا جائے، تبادلہ کیے گئے اساتذہ کو واپس تعینات کیا جائے، خالی آسامیوں پر فوری تقرریاں عمل میں لائی جائیں اور صوبے کے تمام کالجوں میں پشتو زبان و ادب کی تدریس کے لیے مطلوبہ اساتذہ، تعلیمی سہولیات اور تحقیقی وسائل فراہم کیے جائیں۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر پشتو زبان و ادب کے تعلیمی شعبوں کو کمزور کرنے یا ختم کرنے کی پالیسیوں کا فوری نوٹس نہ لیا گیا تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس مسئلے کو ہر جمہوری، آئینی، قانونی اور عوامی فورم پر بھرپور انداز میں اٹھائے گی۔
پارٹی نے کہا کہ پشتون عوام کے لسانی، ثقافتی اور تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور کسی بھی صورت مادری زبان کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert