کراچی ڈیفنس واقعہ: ایس ایس پی کورنگی کی ساس، سالی اور پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج


کراچی (قدرت روزنامہ)کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خاتون اور اس کے بھائی پر تشدد کرنے کے الزام میں ایس ایس پی فدا حسین جانوری کی ساس، سالی، سالے اور پولیس اہلکاروں پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔
اس سے پہلے ایس ایس پی کورنگی فدا جاں وری کی رشتے دار خاتون نے تشدد کا نشانہ بننے والی متاثرہ خاتون پر مقدمہ کرایا تھا، نئے مقدمے میں نامزد ملزمہ ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کی معاونت سے متاثرہ خاتون اور اس کے بھائی پر تشدد کرتی نظر آئی۔
واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی کی جانب سے ڈی آئی جی سائوتھ کو دیئے گئے انکوائری احکامات کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ نے مبینہ طور پر اپنی رپورٹ میں ایس ایس پی کے اہل خانہ اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی تھی۔
درخشاں تھانے میں متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں الزام عائد کیا گیا کہ 20 اگست 2026 کو رات پونے 12 بجے ایک پولیس اہلکار نے ان کے گھر کی گھنٹی بجائی اور کہا کہ میڈم مریم نیچے بلارہی ہیں اور کچھ دیر بعد مریم گالم گلوچ کرتی ہوئی اوپر آئی اور ہمارے دروازے کو لاتیں مارنے لگیں، میں نے دروازہ کھولا تو اس نے مجھے بالوں سے پکڑ ا اور میرا موبائل فون چھین کر نیچے پھینک دیا اور اس دوران میری والدہ باہر آئیں تو ان کو بھی بالوں سے پکڑ ا اور زدو کوب کیا۔
مقدمے کے مطابق مریم نے اپنی بیٹی کے ساتھ دوبارہ نیچے آئیں اور اس کے ساتھ پولیس اہلکار بھی موجود تھےاور آتے ہی ہمارے فون چھیننے کی کوشش کی، میرے بھائی کا فون نیچے گرنے پر مریم نے نے اٹھالیا، مریم کی بیٹی نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ڈمبل سے مارنا شروع کردیا، ان لوگوں کے خوف سے اپنی جان بچاکر فلیٹ میں داخل ہوگئے، اور مدد گار 15 پر کال کی اس دوران فلیٹ کے باہر موجود پولیس اہلکاروں نے دروزے کے باہر لگے کیمرے توڑ دیئے اور کچھ دیر بعد درخشاں تھانے کی پولیس ہمارے گھر کا دروازہ توڑنے لگی اور دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئی، اور میرا اور میرے بھائی کا موبائل فون لے لیا اور پولیس ہمیں تھانے لے آئی۔
واضح رہے کہ مذکورہ واقعے کے بعد درخشاں پولیس نے متاثرہ خاندان پر ہی مقدمہ درج کرکے انہیں جیل بھجوادیا تھا۔

WhatsApp
Get Alert