گلگت بلتستان میں انتخابی میدان سج گیا، پولنگ کا وقت شروع

گلگت بلتستان (قدرت روزنامہ)گلگت بلتستان کا حکمران کون ہوگا؟ فیصلہ آج ہوگا۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کےلیے پولنگ کا وقت شروع ہوگیا جو بغیر کسی تعطل شام 5 بجے تک جاری رہے گا، مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں 1391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، مجموعی طور پر 349 پولنگ اسٹیشن حساس اور 551 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات میں مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں ہیں جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں۔
پیپلز پارٹی 23 ، ن لیگ 22، استحکامِ پاکستان پارٹی 15، پاکستان مسلم لیگ11 اور جے یو آئی ف کے 9 امیدوار میدان میں ہیں۔
ایم ڈبلیو ایم 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6 ،6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ 266 آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
انتخابات کو پر امن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات انتخابات کیے گئے ہیں، مقامی پولیس، جی بی اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری بھی سکیورٹی کے لیے موجود ہے، انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فلیگ مارچ کیا گیا۔
جی بی اے 1گلگت میں پی پی کے امجد حسین،ن لیگ کےشفیق الدین، آئی پی پی کے سلطان رئیس اور آزادامیدوار آصف عثمانی میں سخت مقابلہ متوقع ہے، جی بی اے 2گلگت میں ن لیگ کے حافظ حفیظ الرحمٰن، پی پی کے جمیل احمد، آئی پی پی کے فتح اللہ اور آزاد امیدوار عتیق پیرزادہ میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔
جی بی اے18 دیامر میں سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور آئی پی پی کے امیدوار گلبرخان کا مقابلہ ن لیگ کے کفایت الرحمٰن سے ہے۔
جی بی اے 19 غذر میں آزاد امیدوار نواز خان ناجی، پی پی کے جلال شاہ اور ن لیگ کے ظفر محمد اہم امیدوار ہیں، اسی طرح جی بی اے 13 استور میں آزاد امیدوار شاہدہ خورشید، ن لیگ کے رانا فرمان علی اورپی پی پی کے فہد حنیف اہم امیدوار ہیں۔
