پشتون بلوچ مشترکہ صوبے میں ہر شعبہ زندگی میں برابری ناگزیر ہے،عبدالرحیم زیارتوال

فارم47کے نمائندوں کے ذریعے عوام کے حقوق کو غصب کیا جارہا ہے بالخصوص پشتون سرزمین اور پشتونوں کے حقوق پر خاموشی اختیار کرنے والوں کو عوام کو جواب دینا ہوگا۔سید شراف آغا آئینی طور پر پشتون، بلوچ، سندھی،سرائیکی اور پنجابی عوام کی سرزمینوں پر ان کے بچوں کے حقوق تسلیم کرنے ہوں گے، سردار ادریس بڑیچ، سردار حیات میرزئی ودیگر مقررین کا شمولیتی اجتماع سے خطاب


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام ایک پروقار شمولیتی پروگرم پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدلرحیم زیارتوال کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں درجنوں افراد نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ ضلع کوئٹہ تحصیل سریاب سے مربوط مسلم اتحاد کالونی علاقائی یونٹ بڑیچ کالونی سے حاجی حنیف خان بڑیچ، حاجی جمعہ خان لالا، حاجی آغا محمد لالا، فضل محمد، محمد حسین،حاجی ملک محمد،امان اللہ،عبد العلیم، کرم شاہ،حاجی عبد الحکیم،نظر الدین لالا اورمحمد ایوب لالا نے اپنے خاندانوں کے ہمراہ پشتونخواملی عوامی پارٹی باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا۔ شمولیتی اجتماع سے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدلرحیم زیارتوال، سینئر نائب صدر و ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا، صوبائی ایگزیکٹیوز سردار ادریس خان بڑیچ،سردار حیات خان میرزئی،ضلع سینئر معاون جمشید دوتانی،ضلع معاون حیات خان بڑیچ، تحصیل سریاب سینئر معاون سیکرٹری سید عبدلخالق آغا، علاقائی سیکرٹری ملک سلطان درانی، حاجی محمد حنیف بڑیچ، محمد صادق بڑیچ، مالک بڑیچ نے خطاب کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے شمولیت کرنیوالوں کو پارٹی میں خوش آمد ید کہا کہ اور ان کے بروقت اور درست فیصلے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پشتون بلوچ مشترکہ دو قومی صوبے میں ہر شعبہ زندگی میں برابری ناگزیر ہے، آئینی طور پر پشتون، بلوچ، سندھی،سرائیکی اور پنجابی عوام کی سرزمینوں پر ان کے بچوں کے حقوق تسلیم کرنے ہوں گے، 8فروری 2024کے انتخابات میں فارم47کے نمائندوں کو لاکر اسمبلیوں کی جس انداز میں بولیاں لگائی گئیں ان کے ذریعے آج عوام کے حقوق کو غصب کیا جارہا ہے بالخصوص پشتون سرزمین اور پشتونوں کے حقوق پر خاموشی اختیار کرنے والوں کو عوام کو جواب دینا ہوگا۔ ملک اس وقت شدید بحرانوں میں مبتلا ہے، امن وامان کی ابتر صورتحال، دہشتگردی کی روز بروز واقعات، بالخصوص پشتونوں پر روزگار رزق وروزی کے دروازے بند کرکے ان کا معاشی قتل عام کیا جارہا ہے۔ شدید گرمی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور گیس کی بندش، پینے کے صاف پانی کی قلت، زیر زمین پانی کی سطح انتہائی حد کم درجے تک جانے، تعلیم وصحت کے شعبوں کے تباہی اور ہر ادارے کے ناقص انتظامی امور کرپشن، کمیشن، پرسنٹ کے جاری مکروہ دھندے کے باعث نہ صرف عوامی خدمت پر مامور ادارے مفلوج ہوچکے ہیں بلکہ عوام اس وقت بدترین مشکلات سے دوچارہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کی یہ صورتحال ہے کہ چند مخصوص علاقوں کو چھوڑ کر پورے شہر کے لیے انسانی زندگی کی بنیادی سہولیات ناپید ہوچکی ہیں۔ چوری،ڈکیتی، بدامنی کے واقعات میں شہریوں کو نہ صرف قتل کردیاجاتاہے بلکہ ایک موٹر سائیکل، موبائل نقدی چھیننے کے لیے انہیں زندگی بھر کے لیے معذور اور پورے خاندان کی کفالت کو ختم کردیا جاتا ہے۔ حکومت اور پولیس اس وقت عوام کے سرومال کی تحفظ کو یقینی بنانے اور سماج دشمن، جرائم پیشہ عناصر سے عوام کو نجات دلانے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ اچھے وبُرے کے نام پر جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے، پولیس تھانوں میں بھتہ خوری، منشیات فروشوں، مافیاز کو سپورٹ کرنے میں پولیس براہ راست ملوث ہیں جبکہ اس تمام صورتحال پر چشم پوشی اختیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت صوبے کی تمام شاہراہیں اس وقت سفر کے لیے غیر محفوظ ہوچکی ہیں، عوام، ٹرانسپورٹرکی جانوں کی تحفظ حاصل نہیں، سینکڑوں چیک پوسٹوں، ٹول پلازوں کے باوجودنہ صرف عوام کے املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے بلکہ انہیں اغواء کرنے، جانیں لینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اور یہ تمام صورتحال سیکورٹی فورسز کے ڈرون کیمروں اور ان کی چیک پوسٹوں کی موجودگی میں ہورہا ہے جبکہ کسی بھی واقعہ کے ملزم کو آج تک قانون کے کٹہرے میں نہ لانا حکومت، سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک میں اس وقت تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جمہوری تحریک جس کی قیادت پارٹی چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی کررہے ہیں اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے اپنا سیاسی، جمہوری کردار ادا کرے۔ کیونکہ یہی تحریک ملک کو بحرانوں سے نکالنے بلکہ عوام کی ترقی وخوشحالی کا سبب بنے گی۔

WhatsApp
Get Alert