چیئرمین بلاول بھٹو زرداری عدم تشدد ، ملکی استحکام اور مفاہمت کے علمدار ہیں ، انکی تجویز پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کا آغاز ایک انتہائی خوش آئند اور تاریخ ساز پیش رفت ہے: حیات خان اچکزئی رہنما پی پی پی بلوچستان

کوئٹہ(قدرت روزنامہ) پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے رہنما حیات خان اچکزئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مدبر قائد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی فہم و فراست پر مبنی تجویز پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کا آغاز ایک انتہائی خوش آئند اور تاریخ ساز پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں عدم تشدد، اعلیٰ جمہوری اقدار اور فہم و تدبر کے سب سے بڑے علمدار ہیں۔ ان کی بروقت سیاسی بصیرت اور قائدانہ فکر نے ہمیشہ ملک کو سنگین بحرانوں سے نکالا ہے، اور آج بھی ان کا مفاہمانہ وژن ہی قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام کا واحد ضامن ہے۔
حیات خان اچکزئی نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو کسی قسم کی سیاسی کشیدگی یا محاذ آرائی کی نہیں بلکہ بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق سنجیدہ مذاکرات، باہمی مفاہمت اور باہم احترام کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ لانگ مارچ اور سڑکوں کی احتجاجی سیاست چھوڑ کر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دکھائے گئے آئینی، پارلیمانی اور مذاکراتی راستے کو ترجیح دے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ ملک پہلے ہی سنگین معاشی بدحالی، امن و امان کی نازک صورتحال اور انتظامی بحرانوں سے نبرد آزما ہے، اس لیے پاکستان مزید کسی سیاسی افرا تفری، انارکی یا انتشار کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی محاذ آرائی کو ختم کر کے ملک میں امن، استحکام اور عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی جائے۔
حیات خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ موجودہ نازک حالات تمام سیاسی جماعتوں سے انتہائی ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور بالغ نظری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آئینِ پاکستان کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کی پاسداری ہی تمام تر سیاسی و معاشی بحرانوں کے پائیدار حل کی بنیاد ہے۔ تمام سیاسی قوتیں آئین، پارلیمان اور جمہوری مذاکرات کو مقدم رکھیں۔ سیاسی اختلافات کا حتمی حل سڑکوں پر گھیراؤ جلاؤ کے بجائے مذاکراتی میز اور آئینی فورمز پر ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو احتجاجی سیاست کا ایندھن بنانے کے بجائے انہیں امن، روزگار اور بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے، اور ملکی استحکام، آئین کی حکمرانی اور عوام کی فلاح و بہبود تمام سیاسی قیادت کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔
