پشتون اپنے وسائل کے اصل وارث ہیں، مکمل اختیار دیا جائے، خوشحال خان کاکڑ
نگاندہ اور زرغونہ میں شمولیتی اجتماع، 400 افراد نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا

پشتون قوم کے حقوق کے لیے منظم عوامی تحریک شروع کی جائے گی، خوشحال خان کاکڑ
وسائل پر اختیار کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، چیئرمین پشتونخوا نیپ
ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے یومِ شہادت کا جلسہ تاریخی ہوگا، مقررین
21 جون کو قلعہ سیف اللہ میں عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوگا، پشتونخوا نیپ
خانوزئی (ڈیلی قدرت) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پشتون اپنے وطن کے قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، پانی، زمین اور دیگر قومی دولت کے اصل وارث ہیں، لیکن بدقسمتی سے آج بھی انہیں اپنے وسائل اور قومی معاملات پر مکمل اختیار حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پشتون قوم کے سیاسی، معاشی، ثقافتی اور قومی حقوق کے تحفظ، وسائل پر عوامی اختیار اور حقیقی جمہوری حکمرانی کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے اور یہ جدوجہد اپنے منطقی اور کامیاب انجام تک جاری رہے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نگاندہ اور زرغونہ کے علاقوں میں مقامی شخصیات، سیاسی کارکنوں اور عوام کی پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کے سلسلے میں منعقدہ ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی، جبکہ پشتون قوم کے سیاسی، معاشی، سماجی اور قومی حقوق کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔
خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پشتون وطن میں پسماندگی، بے روزگاری، بدامنی، تعلیمی زبوں حالی، صحت کی ناکافی سہولیات اور معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے عوام کو اپنے وسائل اور معاملات پر فیصلہ سازی کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پشتون عوام کو اپنے وسائل پر اختیار اور اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے کا حق نہیں دیا جاتا، اس وقت تک ترقی، خوشحالی اور استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے زور دیا کہ پشتونوں کے درمیان اتحاد، سیاسی شعور، قومی یکجہتی اور منظم جدوجہد کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان قومی مقاصد کے حصول کے لیے پشتونخوا وطن کی تمام سیاسی جماعتوں، قومی و سماجی شخصیات، دانشوروں، نوجوانوں اور عوامی حلقوں سے رابطے کرکے ایک مؤثر، منظم اور وسیع عوامی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، تاکہ قومی حقوق کے حصول کی جدوجہد کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جا سکے۔

اس موقع پر ڈاکٹر جعفر افغان، سید احمد کاکڑ، محیب الرحمٰن، محمد اشرف، کامران خوشحال، عتیق اللہ، حیات اللہ، داؤد خان، محمد عارف، نیاز محمد، میرویس خان اور حاجی شاکر خان کی قیادت میں 400 افراد نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
نئے شامل ہونے والے کارکنوں اور شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی میں پشتونخوا ایس او اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں، تاہم 2016ء میں پارٹی کے اندر بعض عناصر کی جانب سے پیدا کیے گئے بحران اور آئین و منشور سے انحراف کے باعث انہوں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ آج وہ دوبارہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں اور انہیں فخر ہے کہ وہ ایک اصولی، جمہوری اور قومی سیاسی تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی قومی، جمہوری اور نظریاتی سیاست سے متاثر ہو کر اس قافلے میں شامل ہوئے ہیں، کیونکہ یہی جماعت پشتون قوم کے حقوق، وسائل اور قومی اختیار کے حصول کے لیے مستقل، منظم اور اصولی جدوجہد کر رہی ہے۔
اجتماع سے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، محمود ریاض، ڈاکٹر جعفر خان، قادر خان، کامران خوشحال، سید احمد اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی سیاسی فکر، جمہوری جدوجہد، عوامی خدمات اور قومی قربانیوں کا تسلسل ہے۔ پارٹی اسی فکر اور نظریے کی روشنی میں پشتون قوم کے حقوق، جمہوریت، آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور وسائل پر عوامی اختیار کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
مقررین نے 21 جون 2026ء کو قلعہ سیف اللہ فٹبال اسٹیڈیم میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے پانچویں یوم شہادت کے موقع پر منعقد ہونے والے عظیم الشان جلسہ عام کی تیاریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جلسہ صرف ایک عظیم قومی رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کی تقریب نہیں ہوگا بلکہ پشتون قوم کے قومی حقوق، جمہوری اقدار، قومی وقار، وسائل پر اختیار اور سیاسی خودمختاری کی جدوجہد کے عزم کی تجدید کا تاریخی موقع ثابت ہوگا۔
مقررین نے عوام، سیاسی کارکنوں، نوجوانوں، خواتین، طلبہ، دانشوروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ 21 جون کو قلعہ سیف اللہ میں منعقد ہونے والے اس عظیم عوامی اجتماع میں بھرپور شرکت کرکے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے مشن، قومی فکر اور پشتون قومی حقوق کی جدوجہد کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی اظہار کریں۔
اجتماع میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ 21 جون کے جلسہ عام کو کامیاب بنانے کے لیے تمام علاقوں میں تنظیمی سرگرمیوں، عوامی رابطہ مہم، کارنر میٹنگز، شمولیتی پروگراموں اور سیاسی آگاہی مہم کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ پشتون قوم کی آواز کو زیادہ منظم، مؤثر اور مضبوط بنایا جا سکے۔
شمولیتی اجتماع میں پارٹی کے ضلعی سیکریٹری محمود ریاض، سردار فیصل خان ترین، صوبائی کمیٹی کے رکن حاجی فضل الرحمٰن الکوزئی، ڈاکٹر حیات، عظیم ترین، حیات کارمل، کبیر احمد، عبید اللہ پانیزئی، سمیع اللہ بازی، ضلعی ایگزیکٹو کے اراکین، علاقائی یونٹوں کے ذمہ داران، سیاسی کارکنوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
