کوئٹہ میں مہنگائی کا جن بے قابو، پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کے باوجود اشیائے خوردونوش مہنگی ترین سطح پر برقرار

سبزی، فروٹ، اجناس اور گوشت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)ملک میں پیٹرولیم مصنوعات اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ شہر بھر میں اشیائے خوردونوش، سبزی، فروٹ، اجناس اور گوشت کی قیمتیں بدستور بلند ترین سطح پر برقرار ہیں جبکہ دکانداروں اور ہول سیل مارکیٹ نے عوام کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود مارکیٹ میں کسی بھی سطح پر قیمتیں کم نہیں کی گئیں، جس کے باعث عام آدمی کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔یو این اے کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، کوئٹہ کے بازاروں میں سبزیوں کی قیمتیں مسلسل آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ مارکیٹ میں کراچی کا ٹماٹر 200 روپے فی کلو، پھول گوبھی 200 روپے فی کلو، مٹر 400 روپے فی کلو، پیاز 500 روپے فی 5 کلو، لہسن 600 روپے فی کلو، ادرک 700 روپے فی کلو، فرنچ بین 200 روپے فی کلو، لیموں 300 روپے فی کلو، بینگن 150 روپے فی کلو جبکہ سبز مرچ 250 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے، اور پالک 80 روپے فی گڈی کے حساب سے دستیاب ہے۔ شہریوں کے مطابق سبزیوں کی قیمتوں میں کمی کے بجائے مزید اضافہ یا پرانی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں جس سے غریب طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔اسی طرح اجناس اور دالوں کی مارکیٹ میں بھی کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ باسمتی چاول 400 روپے فی کلو، دال چنا 300 روپے فی کلو، دال ماش ساڑھے 400 روپے فی کلو، کابلی چنا ساڑھے 550 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ کوکنگ آئل 480 روپے فی کلو جبکہ گھی 520 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے اور 20 کلو آٹے کا تھیلا 2800 روپے کی بلند سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔ فروٹ کی مارکیٹ میں تربوز 80 روپے فی کلو، کیلا 200 روپے فی درجن، سندھڑی آم 200 سے 250 روپے فی کلو، خوبانی 400 روپے فی کلو اور آڑو 150 روپے فی کلو میں مل رہا ہے، جبکہ زیارت کی چیری 1000 روپے اور گلگت کی چیری 1400 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔دوسری جانب گوشت کی قیمتیں بھی عام شہری کی پہنچ سے بالکل باہر ہو چکی ہیں۔ بازار میں بیل کا گوشت 1700 روپے فی کلو، ہڈی والا گوشت 1500 روپے فی کلو جبکہ بکرے کا گوشت 3000 سے 3200 روپے فی کلو کی ریکارڈ سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ زندہ مرغی ساڑھے 400 روپے فی کلو اور مرغی کا گوشت 500 سے ساڑھے 550 روپے فی کلو کے حساب سے بیچا جا رہا ہے۔ کوئٹہ کے شہریوں نے کمشنر کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پرائس کنٹرول کمیٹی کو متحرک کیا جائے، مارکیٹوں میں سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور ناجائز منافع خوری کرنے والے مہنگائی مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

WhatsApp
Get Alert