بلوچستان ہائی کورٹ کے کوئٹہ میں ترقیاتی منصوبوں، ٹریفک اور شہری سہولیات سے متعلق اہم احکامات جاری

ریلوے اسٹیشن چوک پر موجودہ ٹریفک ماڈل برقرار رکھنے، زرغون روڈ پر غیر قانونی تجاوزات فوری ختم کرنے کا حکم


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں، ٹریفک مینجمنٹ اور شہری سہولیات سے متعلق متعدد اہم احکامات جاری کر دیے۔ چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دائر ائینی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے ریلوے اسٹیشن چوک پر موجودہ ٹریفک ماڈل برقرار رکھنے اور موجودہ یوٹرن کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔ عدالت نے امداد چوک یا ریلوے اسٹیشن چوک کے قریب نیا یوٹرن بنانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے موجودہ نظام برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ زرغون روڈ پر تمام غیر قانونی تجاوزات، کیبنز، عارضی اسٹالز اور غیر قانونی پارکنگ فوری ختم کرنے کا حکم۔ ڈی آئی جی، ایس ایس پی ٹریفک، ڈپٹی کمشنر اور ایم سی کیو کو تجاوزات کے خلاف مشترکہ کارروائی کی ہدایت۔ ڈرینیج چیمبرز میں ملبہ اور آلائشیں پھینکنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، بلوچستان ہائی کورٹ کا حکم۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایم سی کیو کو نکاسی آب کے نظام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت۔ سیف سٹی منصوبے کے تحت نئی تعمیر شدہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی بلا اجازت کھدائی پر عدالت کی سخت برہمی۔ سیف سٹی حکام کو نئی سڑکیں کھودنے سے قبل متعلقہ حکام سے منظوری لینے کا حکم۔ سمنگلی روڈ اپ گریڈیشن کے لیے زمین کے حصول کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت۔ کوئلہ پھاٹک ریلوے کراسنگ کشادہ کرنے کے منصوبے پر فوری سول ورک شروع کرنے کا عدالتی حکم۔ کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے 876.523 ملین روپے واجبات کی ادائیگی کے لیے حکومت بلوچستان کو اقدامات کی سفارش۔ امداد چوک ایف سی چیک پوسٹ پر عدالت کی برہمی۔ ، ٹریفک میں رکاوٹ کا معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ فوری اٹھانے کی ہدایت۔ سریاب سروس روڈ کی تعمیر غیر تسلی بخش، عدالت نے تصویری اور ویڈیو شواہد سمیت جامع رپورٹ طلب کر لی۔ اوورہیڈ پلوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف نگرانی سخت کرنے کا حکم، متعلقہ تھانوں کو متحرک کرنے کی ہدایت۔ ٹریفک پولیس کو نفری کی کمی کا سامنا، آئی جی اور ڈی آئی جی کو اہلکار فوری واپس کرنے کا حکم۔ عدالت نے قرار دیا کہ خصوصی کمیٹی اپنی ذمہ داریاں مکمل کر چکی، کمیٹی تحلیل کر دی گئی۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے تمام متعلقہ اداروں کو عدالتی احکامات پر فوری اور مثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔

WhatsApp
Get Alert