بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل طاقت اور جبر میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل تشدد، طاقت کے استعمال اور جبر میں نہیں بلکہ جرگوں، مذاکرات، مکالمے اور آئین و قانون کے دائرے میں باہمی افہام و تفہیم سے ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں مختلف وفود سے ملاقات اور گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان میں خوف، بے یقینی، بدامنی، لاقانونیت اور عوامی محرومیوں نے سنگین صورتحال اختیار کرلی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے اختیار کی جانے والی غلط پالیسیوں، طاقت کے بے جا استعمال اور عوامی مسائل سے چشم پوشی کے باعث نوجوانوں کا سیاست، جمہوریت اور ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے، جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام متعلقہ فریق سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات، جرگوں اور سیاسی عمل کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں تاکہ امن، استحکام اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پورے بلوچستان میں ممبرسازی اور دعوتی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد عوام، بالخصوص نوجوانوں، طلبہ، علما کرام، خواتین، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دیانت دار، نظریاتی اور عوامی سیاسی پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے تاکہ صوبے میں ظلم، ناانصافی، کرپشن، بے روزگاری اور محرومیوں کے خلاف مثر جدوجہد کی جا سکے۔ جماعت اسلامی تعصب، لسانیت، فرقہ واریت اور نفرت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ اسلامی اقدار، جمہوری جدوجہد، آئین کی بالادستی، عوامی حقوق، شفاف طرز حکمرانی اور انصاف پر مبنی نظام کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی موروثی سیاست، کرپشن، اقربا پروری اور لوٹ مار سے پاک ایک منظم، باکردار اور ملک گیر سیاسی و دینی تحریک ہے، جس کا ہر کارکن خدمت، دیانت اور عوامی فلاح کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ صوبے میں تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار، امن و امان اور انفراسٹرکچر کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ حکومت، متعلقہ اداروں اور سیکیورٹی پالیسیوں کی ناکامی کے باعث عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اجتماعی مسائل کے حل کے بجائے طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور سخت گیر رویوں نے حالات کو مزید پیچیدہ بنایا ہے، جس سے نفرت، تشدد اور بے اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے نوجوان اس صوبے کا قیمتی سرمایہ ہیں، انہیں مایوسی، تشدد اور انتہا پسندی کی طرف دھکیلنے کے بجائے تعلیم، روزگار، باعزت مواقع اور مثبت سیاسی و سماجی کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ آخر میں انہوں نے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کی ممبرشپ حاصل کریں اور دعوتی و تنظیمی مہم کا حصہ بنیں تاکہ ایک ایسے بلوچستان کی تعمیر ممکن ہو سکے جہاں انصاف، امن اور دیانت دار قیادت کا حقیقی تحفظ یقینی ہو۔

WhatsApp
Get Alert