پیٹرولیم مصنوعات سستی، مگر کوئٹہ میں دودھ اور دہی مہنگا، ڈیری فارمز نے قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ڈیری فارم ایسوسی ایشن اور دودھ فروشوں کی جانب سے دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد عوام کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی تھی، وہیں دوسری جانب دودھ فروشوں کی جانب سے قیمتوں میں یکدم اضافے نے شہریوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یو این اے کے مطابق پاکستان میں چند روز قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 77 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 64 روپے فی لیٹر تک کمی کی گئی۔ معاشی ماہرین اور عوام کی جانب سے توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے اثرات دیگر اشیائے ضروریہ پر بھی مرتب ہوں گے اور عام آدمی کو کچھ نہ کچھ ریلیف ملے گا، تاہم کوئٹہ میں صورتحال اس کے برعکس سامنے آئی ہے۔کوئٹہ شہر میں ڈیری فارم ایسوسی ایشن اور دودھ کے کاروبار سے وابستہ افراد نے کھلے دودھ کی قیمت میں فی کلو 20 روپے اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت 220 روپے فی کلو مقرر کر دی ہے، جبکہ دہی کی قیمت میں 30 روپے فی کلو اضافہ کرتے ہوئے اسے 250 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔ نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد شہریوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ دودھ فروشوں اور ڈیری فارم مالکان کا مقف ہے کہ مہنگائی، جانوروں کے چارے، ادویات، بجلی، مزدوری اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث انہیں دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں پرانی قیمتوں پر کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، اسی لیے مجبوری کے تحت نرخ بڑھائے گئے ہیں۔دوسری جانب شہریوں نے قیمتوں میں اضافے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے اسے عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے تو دودھ اور دہی سمیت دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی کمی آنی چاہیے تھی، تاہم اس کے برعکس قیمتوں میں اضافہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ اور دہی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ڈیری فارم ایسوسی ایشن اور دودھ فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سرکاری نرخوں کے مطابق قیمتوں کا تعین کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ سماجی اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں من مانا اضافہ معمول بنتا جا رہا ہے، جس کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مثر اقدامات کیے جائیں اور مارکیٹوں کی نگرانی کو فعال کر کے عوامی مفاد میں سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔
