بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے بیرون ملک بیٹھے ملک دشمن عناصر نے استعمال کیا۔صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ نے ٹویٹر ایکس پر اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہیکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے بیرون ملک بیٹھے ملک دشمن عناصر نے استعمال کیا اس سلسلے میں موصوفہ نے اپنی تقاریر کے ذریعے نوجوانوں کو اشتعال دلانے کا کام کیا۔ قانون کو ہاتھ میں لینا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، ملک کے خلاف زبان استعمال کرنا اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو پہاڑوں کا راستہ دکھانا ایسے عوامل ہیں جن کا کوئی بھی ذمہ دار شہری تصور بھی نہیں کر سکتا۔
بی وائی سی کے جلسے صرف اور صرف نفرت پھیلانے کے لیے کیے گئے۔ یہاں تک کہ گوادر راجی مچی کے دوران ان عناصر نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے ایک نہتے نوجوان پولیس اہلکار کو شہید کیا جس کے لیے کسی قسم کی قانونی معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔
ٹرین ہائی جیک کرنے والے دہشت گردوں کی لاشوں کو ہسپتال پر حملہ کرکے انہی لوگوں نے اغوا کرنے کی کوشش کی۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی ان عناصر نے سرکاری املاک کو نذر آتش کیا۔
ایسے عناصر جن کی یہ خدمات ہوں وہ قانون کے سامنے خود کو ملک کا عام شہری کیسے ثابت کر سکتے ہیں؟ قانون جب اپنا راستہ اختیار کرتا ہے تو مرد و زن سب برابر ہوتے ہیں اور سزا بھی یکساں ہوتی ہے۔
وہ لوگ جو ان عناصر کو اپنا لیڈر مانتے تھے آج عورت کارڈ کے ذریعے ایک بار پھر اپنے ہمنواؤں کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
بلوچستان کے نوجوانوں کو پیغام ہے کہ وہ ایسے عناصر سے خود کو دور رکھیں اور دشمن کے ہاتھوں آلۂ کار بننے سے ہر صورت بچیں۔ اپنی صلاحیتوں، توانائیوں اور شعور کو نفرت، انتشار اور گمراہی کے بجائے تعلیم، ترقی اور قومی خدمت کے لیے وقف کریں۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف آواز بلند کرنا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔ آئیں ہم سب مل کر اتحاد، امن اور استحکام کا پیغام عام کریں اور بلوچستان سمیت پورے پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کے لیے ایک مضبوط آواز بنیں۔

WhatsApp
Get Alert