بلوچستان میں طوفانی بارشوں سے زرعی شعبہ تباہ، متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے، زمیندار ایکشن کمیٹی

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے چیئرمین ملک نصیر احمد شاہوانی، جنرل سیکریٹری حاجی عبدالرحمن بازئی اور ایگزیکٹو ممبران نے بلوچستان کے علاقوں خضدار، نال، وڈھ اور دیگر اضلاع میں حالیہ طوفانی بارشوں اور شدید ژالہ باری سے ہونے والے بڑے پیمانے پر زرعی نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں کو فوری طور پر آفت زدہ قرار دیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے ہنگامی بنیادوں پر جامع ریلیف پیکج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ژالہ باری اور موسلا دھار بارشوں نے باغات، کھڑی فصلوں، سبزیوں اور پھلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے ہزاروں زمینداروں کی سال بھر کی محنت ضائع ہو گئی ہے۔اپنے مشترکہ بیان میں زمیندار ایکشن کمیٹی کے رہنماں نے کہا کہ پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلیوں، مہنگی زرعی اشیا، بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ اور پیداواری لاگت میں اضافے نے زمینداروں کو پہلے ہی مالی مشکلات سے دوچار کر رکھا تھا، اور اب اس قدرتی آفت نے زرعی شعبے کو مزید تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، لیکن مسلسل حکومتی عدم توجہی کے باعث یہ شعبہ بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام متاثرہ اضلاع میں فوری سروے کروا کر شفاف انداز میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے، زمینداروں کو مالی معاوضہ دیا جائے، اور موجودہ غیر معمولی حالات کے پیشِ نظر کم از کم دو سال کے لیے زرعی ٹیکس مکمل طور پر معاف کیا جائے تاکہ معاشی اور سماجی تباہی سے بچا جا سکے۔
