ملک سے فرار سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا بنگلہ دیش واپسی کا اعلان

بنگلہ دیش(قدرت روزنامہ)بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت میں پناہ لینے والی سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ نے سزائے موت سنائے جانے کے باوجود رواں سال بنگلہ دیش واپس لوٹنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی سازش یا رکاوٹ کے آگے نہیں جھکیں گی اور جلد اپنے ملک میں ہوں گی۔

فیصلہ غیر قانونی اور سیاسی محرکات پر مبنی ہے
بھارتی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں 78 سالہ شیخ حسینہ نے دعویٰ کیا کہ انہیں موت کا کوئی خوف نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے خلاف سنائی جانے والی سزا کو غیر قانونی، غیر آئینی اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’میرے خلاف ماضی میں بھی کئی سازشیں کی گئیں، لیکن میں ہر سازش کا مقابلہ کرتے ہوئے عوام کے ووٹوں سے 5 مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئی اور ملک کی بے مثال ترقی کے لیے کام کیا‘۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں اٹھنے والی ایک طاقتور عوامی تحریک کے بعد اچانک بھارت فرار ہو گئی تھیں، جس کے نتیجے میں ان کے 15 سالہ طویل دورِ حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

بھارت منتقلی کے بعد سے وہ عوامی سطح پر بہت کم نظر آئی ہیں، تاہم انہوں نے نئی دہلی کے ایک پریس کلب میں نشر ہونے والی تقریب سے خطاب بھی کیا تھا۔

انسانیت کے خلاف جرائم اور پھانسی کی سزا
گزشتہ سال نومبر میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کی عدم موجودگی میں انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا تھا۔

عدالت نے ان پر قتل پر اکسانے، ہلاکتوں کے احکامات دینے اور مظالم روکنے میں ناکام رہنے کے الزامات کے تحت پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

دوسری جانب ان کی سیاسی جماعت ‘عوامی لیگ’ پر بھی بنگلہ دیش میں سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی کھینچ تان
بنگلہ دیش میں وزیراعظم طارق رحمان کی بھاری انتخابی کامیابی کے بعد اگرچہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان شیخ حسینہ کی حوالگی کا معاملہ اب بھی ایک سنگین تنازع بنا ہوا ہے۔

بنگلہ دیش مسلسل بھارت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ شیخ حسینہ کے اس تازہ ترین بیان نے خطے کی سیاسی صورتحال اور دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

WhatsApp
Get Alert