آزاد کشمیر کے مسئلے کو جذبات کے بجائے عقل و دانش سے حل کرنے کی ضرورت ہے،مولانا فضل الرحمان


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے مسئلے کو جذبات کے بجائے عقل و دانش سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔وفاقی دارالحکومت میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان کی آمد پر وہ ان کے مشکور ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے مشعل ملک نے ان سے رابطہ کیا، جبکہ یاسین ملک نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے وقف کر دی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیریوں نے اپنی ہر تحریک پاکستان کے پرچم تلے چلائی اور ان کے شہدا کے جنازے بھی پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیر کے معاملے پر جذبات کے بجائے دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ کشمیر کی قیادت کا ایک بڑا وفد ان سے ملا تھا، جس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا خط بھی پیش کیا۔ انہوںنے کہاکہ انہوں نے تعاون پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کچھ وقت مانگا اور دھرنا ملتوی کرنے کا مشورہ دیا، تاہم دھرنا برقرار رکھا گیا لیکن اس کے بعد کوئی اگلا قدم نہیں اٹھایا گیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بھی بات کر چکے ہیں، جبکہ حکومت بھی اس وقت مشاورت میں مصروف ہے، اس لیے اس کے فیصلوں کا انتظار کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے عالمی فورمز پر پاکستان کے خلاف ایک جارح ملک کے طور پر قرارداد پیش کی، جس کا موثر انداز میں جواب دیا جانا چاہیے۔

WhatsApp
Get Alert