شیخ حمدان نے 18 ارب درہم کے میگا پراجیکٹس کی منظوری دیدی
دبئی کی مصروف ترین شیخ زید روڈ کے متوازی فرسٹ الخیل اسٹریٹ پر 15 کلومیٹر طویل نیا فلائی اوور بنے گا، جس سے رش میں سفر کا وقت 51 فیصد تک کم ہو جائے گا

دبئی(قدرت روزنامہ)متحدہ عرب امارات کی سب سے تیزی سے بدلتی اور جدت پسند ریاست دبئی نے مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے 18 ارب درہم کے ایک خطیر اور تاریخی ترقیاتی پیکیج کی منظوری دی ہے، دبئی کے ولی عہد اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے کونسل کے اہم ترین اجلاس میں “فرسٹ الخیل اسٹریٹ ڈیولپمنٹ پلان” سمیت متعدد دور رس منصوبوں پر دستخط کردیئے۔
خلیجی میڈیا کے مطابق اس پیکیج کا سب سے بڑا اور اہم ترین منصوبہ فرسٹ الخیل اسٹریٹ کی تعمیر و ترقی ہے، یہ نیا کوریڈور دبئی کی مصروف ترین شاہراہ شیخ زید روڈ کے بالکل متوازی بنایا جائے گا، اس منصوبے کے تحت 15 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ روڈ وے یعنی فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا جس کے دونوں اطراف 3، 3 لینز ہوں گی۔
بتایا گیا ہے کہ یہ کوریڈور دبئی کے مصروف ترین علاقوں البرشا، القوز، بزنس بے اور میدان کو آپس میں جوڑے گا اور اس سے 26 لاکھ آبادی مستفید ہوگی، اس منصوبے سے شیخ زید روڈ پر رش کے اوقات میں سفر کا وقت 51 فیصد تک کم ہو جائے گا، جبکہ سڑک پر ٹریفک کی گنجائش میں فی گھنٹہ 9 ہزار گاڑیوں کا اضافہ ہوگا، اس منصوبے پر باقاعدہ تعمیری کام 2027ء کی تیسری سہ ماہی میں شروع ہوگا اور یہ 2030ء کی آخری سہ ماہی میں مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔
معلوم ہوا ہے کہ دبئی کونسل نے ‘دبئی پاپولیشن ناؤ’ نامی ایک جدید ترین پراجیکٹ کی منظوری دی ہے، اس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور اسمارٹ فورکاسٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے ایک “رئیل ٹائم پاپولیشن کلاک” بنائی جائے گی جو ہر سیکنڈ دبئی کی آبادی کی مانیٹرنگ کرے گی، یہ لائیو ڈیٹا حکومت کو ہاؤسنگ، تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ کی بہتر منصوبہ بندی میں مدد دے گا۔
علاوہ ازیں اجلاس میں ‘دبئی کلچرل اسٹریٹجی 2033ء’ کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد دبئی کو عالمی سطح پر ٹیلنٹ کا گڑھ بنانا، 6 ہزار مقامی اور 6 ہزار بین الاقوامی تخلیق کاروں کو راغب کرنا اور ثقافتی شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ بڑھا کر 5.4 فیصد تک لے جانا ہے، اس کے ساتھ ہی ‘دبئی کسٹمز اسٹریٹجی 2030ء’ کی منظوری بھی دی گئی جو دبئی کو بین الاقوامی تجارت کا ناقابلِ تسخیر مرکز بنانے اور کاروباری لاگت کم کرنے پر مرکوز ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ کونسل نے ایک مشترکہ ‘دبئی انویسٹر رجسٹر’ قائم کرنے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت اب کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو دبئی کے مختلف زونز میں بار بار رجسٹریشن نہیں کروانی پڑے گی بلکہ ایک ہی رجسٹریشن ہر جگہ کارآمد ہوگی، یہ اقدام دبئی کی معاشی ایجنڈے D33 کے تحت 2033ء تک 650 ارب درہم کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے ہدف کو پورا کرنے میں مدد کرے گا۔
مزید یہ کہ اجلاس میں دبئی کے ایڈریس سسٹم کے لیے ایک نئی بصری شناخت کی منظوری دی گئی ہے، دبئی کے ماحول سے متاثر ہو کر بنائے گئے یہ جدید اور خوبصورت سائن بورڈز مسافروں کو راستے ڈھونڈنے میں آسانی پیدا کریں گے اور 2029ء تک اس نظام کو 186 علاقوں تک پھیلا دیا جائے گا جب کہ ڈی آئی ایف سی کے اشتراک سے دبئی میں “عالمی مرکز برائے ٹیکنالوجی و جدت ان اسلامک فنانس” قائم کیا جائے گا۔
کیونکہ 2030ء تک اسلامک فن ٹیک کی مارکیٹ 9.31 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، اس کے تحت 4 نومبر 2026ء کو ایک بڑا عالمی فورم بھی منعقد ہوگا، اسی طرح نجی تعلیمی شعبے میں اماراتی شہریوں کو ملازمتیں دینے کے لیے ‘اماراتی ٹیلنٹ اسٹریٹجی’ کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت 2033ء تک نجی تعلیمی اداروں میں 3 ہزار مقامی شہریوں کو ملازمتیں دی جائیں گی۔
