جیل میں جائے نماز اور کتابیں میری ساتھی تھیں، شوگر ڈاؤن ہوئی تو فرش سے گڑ اٹھا کر کھایا، مریم نواز

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ جیل میں قید کے دوران شدید بیماری کے باوجود انہیں اور ان کے والد میاں نواز شریف کو بنیادی طبی و انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ جیل اصلاحات کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے جیل میں 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، اس قیدِ تنہائی کا انسان کی ذہنی صحت پر کیا خوفناک اثر پڑتا ہے، مجھے اس کا پورا اندازہ ہے کیونکہ جیل میں جس انسان پر گزرتی ہے وہی اس درد کو جانتا ہے، شروع میں جیل کے اندر جائے نماز اور کتابیں ہی واحد ساتھی تھیں، مگر بعد میں انتظامیہ نے کتابیں پڑھنے کی سہولت بھی چھین لی اور کتابیں بند کردی گئیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ مجھے اور میرے والد میاں نواز شریف کو ایک ساتھ قید رکھا گیا تھا، میرے جیل کے کمرے میں واش روم اور سونے کی جگہ بالکل ساتھ ساتھ تھی، یہاں تک کہ کمرے میں جائے نماز بچھانے کی مناسب جگہ تک نہیں ہوتی تھی اور صفائی ستھرائی کی بنیادی سہولیات بھی غائب تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ جیل میں ایک رات میری شوگر اچانک انتہائی خطرناک حد تک ڈاؤن ہو گئی، میں مدد کے لیے زور زور سے چلاتی رہی، دروازہ کھٹکھٹاتی رہی لیکن کوئی میری آواز سننے والا نہیں تھا اور نہ ہی کوئی بیرک میں مدد کے لیے آیا، اس وقت کمرے میں مجھے ایک شیشے کی بوتل نظر آئی جس میں گڑ مکس کرکے رکھا ہوا تھا، شوگر ڈاؤن ہونے کی وجہ سے میرا پورا جسم بری طرح کانپ رہا تھا، جب میں نے جلدی میں وہ بوتل اٹھانے کی کوشش کی تو وہ ہاتھ سے چھوٹ کر ٹوٹ گئی اور گڑ شیشے کے ٹکڑوں کے ساتھ فرش پر بکھر گیا، میں نے اسی مٹی اور شیشے کے ٹکڑوں والے فرش سے وہ گڑ اٹھا کر کھایا کیونکہ میرے پاس کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔
مریم نواز نے اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم جیل میں قید تھے، میری والدہ لندن کے ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھیں، وہ شدید بیمار تھیں مگر ہمیں ان سے بات کرنے یا ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، میری ماں کا جب انتقال ہوا، اس وقت میں اور میرے والد جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید تھے، آج میری مرحومہ ماں کی سالگرہ ہے، ان کی کہی ہوئی باتیں اور ان کا چہرہ میں آج تک نہیں بھول سکی۔
