جب تک شیخ حسینہ کو حوالے نہیں کیا جاتا وزیراعظم بھارت کا دورہ نہیں کریں گے، بنگلا دیش

بنگلہ دیش(قدرت روزنامہ)بنگلا دیش کی حکومت نے کہا ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان اس وقت تک بھارت کا دورہ نہیں کریں گے جب تک سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو حوالے نہیں کیا جاتا۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بنگلادیش کی وزارت خارجہ کے عہدیدار اے کے ایم شاہدول کریم نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران وزیراعظم طارق رحمان کے اگلے ہفتے بھارت کے ممکنہ دورے سے متعلق افواہوں کو رد کیا اور بتایا کہ ہمارا مؤقف ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ہم بھارتی حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ شیخ حسینہ اور دیگر مفرور افراد کی واپسی کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں جبکہ بھارت نے کہا ہے کہ بنگلا دیش کی درخواست زیر غور ہے۔
قبل ازیں گزشتہ ہفتے بنگلادیش میں بھارتی ہائی کمشنر دنیش تریواڈی نے وزیراعظم طارق رحمان سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
شاہدول کریم نے اس حوالے سے بتایا کہ بنگلا دیش اور بھارت کے عہدیدار وزیراعظم طارق رحمان کے ممکنہ دورے کے حوالے سے حالیہ ہفتوں میں رابطے میں رہے ہیں لیکن یہ عمل انسانیت کے خلاف جرائم پر سزایافتہ ہونے کے باوجود شیخ حسینہ کی میڈیا پر کھلے عام بیان بازی کے باعث بگڑ گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت خارجہ پالیسی میں پہلے بنگلہ دیش منصوبے پر عمل پیرا ہوگی جو خودمختاری اور بیرونی عدم مداخلت سے جڑی ہوئی ہے اور اسی طرح بھارت سمیت دیگر ممالک کے ساتھ دو طرفہ سودمند تعلقات کے بھی خواہاں ہیں۔
یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد کو جولائی 2024 میں طلبہ کے ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں حکومت چھوڑنا پڑا اور وہ بھارت فرار ہوگئی تھیں، جس کے بعد بھارت اور بنگلا دیش کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔
شیخ حسینہ واجد کو بنگلا دیش میں قتل سمیت مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں سزائے موت بھی سنا دی ہے جبکہ بنگلادیش کی جانب سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کے لیے متعدد مرتبہ درخواست کی گئی ہے۔
بنگلادیش میں 15 سال تک حکومت کے دوران شیخ حسینہ واجد نے اپنے مخالف سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں پر سختی کی اور ان کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کی تاہم 2024 میں طلبہ کی تحریک کے باعث انہیں اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا، ان کے بعد ڈاکٹر محمد یونس کو حکومت دی گئی جنہوں نے ملک میں 2026 میں عام انتخابات کرائے۔
طارق رحمان نے رواں برس فروری میں بطور وزیراعظم بنگلادیش منصب سنبھالا، جس کے بعد انہوں نے چین اور ملائیشیا کا دورہ کیا جبکہ ماضی میں بنگلادیش کے وزرائے اعظم انتخاب کے بعد اپنا پہلا غیرملکی دورہ بھارت کا کرتے تھے تاہم انہوں نے چین کا دورہ کیا۔
