ہنہ اوڑک میں مسلح جتھوں کا حملہ ریاستی عملداری پر سوالیہ نشان؛ چھاؤنی کے پہلو میں عوام کو بے یار و مددگار چھوڑنا حکومت کی مجرمانہ غفلت کا بین ثبوت ہے، مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر و سینیٹر مولانا عبدالواسع نے ہنہ اوڑک میں مسلح جتھوں کی جانب سے کیے گئے بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نہایت تشویشناک اور لمحۂ فکریہ ہے کہ عوام سے کیے گئے تمام تر وعدوں کے باوجود چھاؤنی کے عین پہلو میں مسلح گروہ ایک بار پھر دندناتے ہوئے حملہ آور ہوئے، جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور بےگناہ شہری شہید ، کئی بے گناہ شہری زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ حکومت کی امن و امان برقرار رکھنے کی دعویداری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے اور ریاستی عملداری کی بے بسی کا بین ثبوت ہے۔
مولانا عبدالواسع نے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس عظیم سانحے پر غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ جمعیت علماء اسلام شہداء کے ورثاء کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتی ہے
انہوں نے گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مجرمانہ عدم موجودگی نے عوام کو اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی مدد آپ پر مجبور کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے پورے علاقے کو خوف و ہراس کی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں معصوم بچے، پردہ نشین خواتین اور ضعیف العمر بزرگ شدید ذہنی کرب اور اضطراب میں مبتلا ہیں۔
جے یو آئی بلوچستان کے امیر حضرت مولانا عبدالواسع نے حکومتِ وقت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ ہنہ اوڑک میں فوری طور پر امن کی بحالی کو یقینی بنایا جائے اور شرپسند عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے. حملے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کی ہر ممکن مالی و اخلاقی دادرسی کی جائے اور زخمیوں کو بلا تاخیر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ عوام کے جان و مال، عزت و آبرو کے تحفظ کو ریاستی ترجیحِ اول قرار دے کر عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو عوام کا ریاست کے اداروں پر رہا سہا اعتماد بھی متزلزل ہو جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ ریاست کا بنیادی فرض شہریوں کو تحفظ دینا ہے، اور اس فرض سے غفلت ناقابلِ معافی جرم ہے۔
