ہنہ اوڑک حملہ حکومتی ناکامی ہے، عدالتوں کو بھی سکیورٹی خطرات لاحق ہیں؛ کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کا کل مکمل ہڑتال کا اعلان

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر اورنگزیب کاکڑ، نائب صدر کوئٹہ احمد شہریار خان، نائب صدر کچلاک نسیم قریشی، نائب صدر سریاب غلام نبی داجلی، جنرل سیکریٹری میر فہد مینگل، جوائنٹ سیکریٹری بابر عباس، فنانس سیکریٹری نیک محمد لہڑی اور لائبریری سیکریٹری زری گل خلجی نے ہنہ اوڑک میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی ناکامی اور بلوچستان میں بگڑتی امن و امان کی صورتحال کا مظہر قرار دیا ہے۔جاری بیان میں رہنماں نے شہدا، زخمیوں، مغویان اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی، مغویان کی بحفاظت بازیابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور شہریوں کے جان و مال کو لاحق خطرات انتہائی تشویشناک ہیں اور حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لازم ہے کہ عوام کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ چند روز سے کوئٹہ کی عدالتوں کو لاحق سکیورٹی خطرات کے باوجود مثر حفاظتی اقدامات نہ کرنا بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ عدالتیں انصاف کی فراہمی کا مرکز ہیں اور ان کی سکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔کوئٹہ بار ایسوسی ایشن نے وفاقی و صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہنہ اوڑک حملے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے، واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور کوئٹہ کی تمام عدالتوں، وکلا اور سائلین کو مثر سکیورٹی فراہم کی جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امن و امان کی بحالی، عدالتوں کی سکیورٹی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری عملی اقدامات نہ کیے گئے تو وکلا برادری اپنے آئینی و جمہوری حق کے تحت مزید سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرے گی۔ اس سلسلے میں کوئٹہ بار ایسوسی ایشن نے 7 جولائی بروز منگل مکمل ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے وکلا برادری سے احتجاج کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔
