دبئی ایکسپو 2020 میں بلوچستان کے کروڑوں کی بے ضابطگیاں؛ پی اے سی نے سابق ایم ڈی لیڈا اور متعلقہ افسران کو طلب کر لیا

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین پی اے سی رحمت صالح بلوچ، زابد علی ریکی، فضل قادر مندوخیل، غلام دستگیر بادینی اور حاجی میر محمد خان لہڑی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آڈٹ بلوچستان شجاع علی، سیکرٹری صنعت و تجارت محمد خالد سرپرہ، اسپیشل سیکرٹری بلوچستان اسمبلی سراج لہڑی، ایم ڈی لیڈا لیاقت کاشانی سمیت متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں دبئی ایکسپو 2020 میں بلوچستان پویلین اور بلوچستان انویسٹمنٹ کانفرنس کے حوالے سے سال 2021-22 کے اسپیشل آڈٹ رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ بلوچستان نے یہ خصوصی آڈٹ اس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان کے حکم پر کیا۔ آڈٹ کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا منصوبے پر عملدرآمد کے دوران قواعد و ضوابط، مالیاتی اصول، خریداری کے طریقہ کار، داخلی کنٹرول، شفافیت اور سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق تمام قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کیا گیا یا نہیں۔ آڈٹ بین الاقوامی آڈٹنگ معیارات (INTOSAI) کے مطابق کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ دبئی ایکسپو 2020 میں بلوچستان پویلین کے انعقاد کی ذمہ داری اس وقت کے منیجنگ ڈائریکٹر لیڈا (LIEDA) کو سونپی گئی تھی، جنہوں نے ساحلی ترقی و ماہی گیری، سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات اور توانائی کے محکموں کے اشتراک سے اس ایونٹ کا انعقاد کیا۔ اس مقصد کے لیے حکومت بلوچستان نے 20 کروڑ روپے کی گرانٹ فراہم کی جبکہ مجموعی اخراجات تقریباً 15 کروڑ 72 لاکھ 69 ہزار روپے رہے۔
آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ 13 کروڑ 97 لاکھ 25 ہزار روپے مالیت کا کنٹریکٹ بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ رولز 2014 کے تقاضوں کے برعکس Competitive Bidding کے بغیر مذاکراتی طریقہ کار کے ذریعے دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق نہ تو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری حاصل کی گئی اور نہ ہی مذاکراتی ٹینڈرنگ اختیار کرنے کی وجوہات اور قانونی جواز تحریری طور پر ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے، جبکہ وفاقی حکومت جولائی 2021 میں ہی بلوچستان حکومت کو دبئی ایکسپو میں شرکت سے آگاہ کر چکی تھی۔آڈٹ حکام نے مزید بتایا کہ اس معاملے کی نشاندہی متعلقہ محکمہ کو اپریل 2022 میں کی گئی تھی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور نہ ہی محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی (DAC) کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ آڈٹ نے سفارش کی کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے ہدایت دی کہ اس وقت کے سیکرٹری، ایم ڈی لیڈا اور تمام متعلقہ افسران کو طلب کیا جائے تاکہ ان کا موقف سنا جا سکے اور حقائق کی روشنی میں ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر ایسے پروگرام آخری وقت میں منعقد کیے جاتے ہیں جس کے باعث مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے معاملات کا مکمل احتساب ضروری ہے۔
کمیٹی کے رکن زابد علی ریکی سمیت دیگر اراکین نے کہا کہ موجودہ سیکرٹری دستیاب ریکارڈ اور دستاویزات کی بنیاد پر موقف پیش کر رہے ہیں، تاہم اس وقت کے تمام متعلقہ افسران کو کمیٹی کے روبرو پیش ہونا ہوگا تاکہ ہر پہلو کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ حاجی محمد خان لہڑی، فضل قادر مندوخیل اور غلام دستگیر بادینی نے بھی رائے دی کہ اس وقت کے ذمہ دار حکام کو طلب کیا جائے تاکہ کمیٹی اس اسپیشل آڈٹ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ دبئی ایکسپو 2020 سے متعلق آڈٹ پیراز میں نامزد متعدد متعلقہ افسران آج کے اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ فیصلہ کیا گیا کہ وہ خواہ صوبے سے باہر یا کسی دوسرے صوبے میں تعینات ہوں، انہیں آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے گا۔ کمیٹی نے متعلقہ افسران کو 15 روز کا وقت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں پیش ہو کر اپنا موقف، ریکارڈ اور وضاحت کمیٹی کے سامنے پیش کریں، جس کے بعد معاملے پر مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اگر متعلقہ آفیسرز کمیٹی کی میٹنگ میں پیش نہیں ہوئے تو کیس نیب یا اینٹی کرپشن کو بھیج دیا جائے گا۔
