مالی سال 26 -2025: بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 9 فیصد اضافے سے 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر مالی سال 26-2025 میں 9 فیصد اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال میں 38.3 ارب ڈالر تھیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جون 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر 3.475 ارب ڈالر رہیں، جو مئی کے مقابلے میں 18 فیصد کم تاہم جون 2025 کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق ترسیلاتِ زر میں اضافے کی بڑی وجوہات غیر رسمی ذرائع (ہنڈی، حوالہ) کے بجائے بینکاری نظام کے استعمال میں اضافہ، روپے کی نسبتاً مستحکم قدر، خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی بڑھتی تعداد اور غیر قانونی رقوم کی ترسیل کے خلاف حکومتی اقدامات ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریکارڈ ترسیلاتِ زر نے پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دیا، بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے باوجود جاری کھاتے کو سرپلس رکھنے میں مدد دی اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
جون 2026 میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے موصول ہوئیں، جہاں سے 83 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ متحدہ عرب امارات سے 79 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 51 کروڑ 50 لاکھ ڈالر، یورپی یونین کے ممالک سے 41 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جبکہ امریکا سے 29 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔
اسٹیٹ بینک نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے دوران ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی ہے، تاہم ماہرین نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ترسیلاتِ زر سے متعلق بعض مراعاتی اسکیموں کے خاتمے کو اہم عوامل قرار دیا ہے۔
وزیراعظم کا 41.6 ارب ڈالر ترسیلاتِ زر بھیجنے پر سمندر پار پاکستانیوں سے اظہارِ تشکر
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مالی سال 2025-26 کے دوران ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجنے پر سمندر پار پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی خدمات قومی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ترسیلاتِ زر میں 8.6 فیصد اضافہ سمندر پار پاکستانیوں کے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں، سمیت پوری قوم کو، ان پر فخر ہے۔
شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور انہیں مزید سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
