ہنہ اوڑک اور زیارت واقعات ایک منصوبے کے تحت ہو رہے ہیں؛حکومت لاشیں گرانے کے لیے مسلط کی گئی، مولانا عبدالغفور حیدری

کوئٹہ(ڈیلی قدرت)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے شہداء زیارت اور ہنہ اوڑک کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر کی خوبصورت وادی جو شہر کے بالکل قریب ہے وہاں نام نہاد مسلح لوگوں کے حملے اور زیارت میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ قابلِ افسوس اور شرمناک ہے، اور ان کی شہادتیں ایک منصوبے کے تحت ہو رہی ہیں۔ یہ صرف ہنہ اوڑک اور زیارت کا مسئلہ نہیں، بلکہ پشتون اور بلوچ کو اپنے ساحل و وسائل کی سزا دی جارہی ہے، 78 سال میں پاکستان کی وفاداری کی سزا دی جا رہی ہے اور ایک طویل عرصے سے پشتون اور بلوچ لاشیں اٹھا رہے ہیں۔ اس ملک نے پشتون اور بلوچ کو لاشوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ فارم 47 کی حکومت لاشیں گرانے کے لیے ہی مسلط کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہنہ اوڑک کے قبائلی عوام پر خوف و ہراس اور وحشت مسلط کرکے انہیں پرامن زندگی سے محروم کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے عوام اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا کر تھک چکے ہیں، آخر قوم کب تک جنازے اٹھاتی رہے گی؟ ہمارے ٹیکسوں سے امن و امان کے لیے اربوں روپے مختص ہوتے ہیں لیکن ریاستی ادارے عوام کو امن نہ دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اربابِ اختیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مزید قانون کا راگ نہ الاپیں، بلوچستان کے عوام اب جینے کا حق مانگ رہے ہیں، اب تو عوام کی جان و مال پر دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے واضح کیا کہ ہم اس وقت خاموشی اختیار نہیں کریں گے، تمام سیاسی جماعتیں اور قبائلی مشران اس ظلم کے خلاف متحد ہو جائیں۔ حکومت پرامن احتجاج اور دھرنے کو ہماری کمزوری نہ سمجھے، اگر ہم نے فیصلہ کر لیا تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور قبائلی مشران اس ظلم کے خلاف سخت لائحہ عمل طے کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اغواء برائے تاوان، قتل اور وحشت ناک واقعات پر صوبائی حکومت کا کیا کردار رہا ہے؟ حکومت صرف مذمتی بیانات دے کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھ لیتی ہے۔ صوبائی حکومت سے امن کی کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی، عوام مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں اور صوبے میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔
