مہنگائی میں کمی کا دعویٰ مگر حقائق برعکس! ادارہ شماریات کی رپورٹ نے سب واضح کردیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)مہنگائی کے دباؤ میں گھرے عوام کے لیے معمولی ریلیف کی خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک ہفتے کے دوران روزمرہ استعمال کی کئی اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 9 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) میں 0.45 فیصد کمی ہوئی تاہم سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح اب بھی 11.94 فیصد تک موجود ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق 9 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کا اشاریہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں کم ہوا۔ حکام کے مطابق اس کمی میں کھانے پینے کی اشیا کے ساتھ ساتھ بعض غیر غذائی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نے بھی کردار ادا کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق زیر جائزہ ہفتے میں ایل پی جی کے نرخ 15.12 فیصد کم ہوئے جبکہ ٹماٹر کی قیمت میں 23 فیصد، دال مونگ میں 2.15 فیصد، پیٹرول میں 0.69 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 0.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کا دباؤ بدستور برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے مقابلے میں حساس قیمتوں کے اشاریے میں 11.94 فیصد اضافہ ہوا۔ سالانہ مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات میں ٹماٹر کی قیمت میں 129.01 فیصد، پیاز میں 76.34 فیصد، گندم کے آٹے میں 71.22 فیصد، پہلی سہ ماہی کے بجلی کے بلوں میں 49.14 فیصد، گیس کے نرخوں میں 29.85 فیصد، ایل پی جی میں 25.51 فیصد، بکرے کے گوشت میں 16.36 فیصد اور مردانہ اسپنج چپلوں کی قیمتوں میں 16.69 فیصد اضافہ شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق آلو کی قیمت میں 35.89 فیصد، دال چنے میں 22.23 فیصد، مرغی کے گوشت میں 21.32 فیصد، چینی میں 20.98 فیصد، پاؤڈر نمک میں 14.09 فیصد، دال مسور میں 12.93 فیصد، انڈوں میں 9.23 فیصد جبکہ دال مونگ میں 6.06 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ہفتہ وار جائزے کے دوران 51 اہم اشیا کی قیمتوں کا تجزیہ کیا گیا۔ ان میں سے 22 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو مجموعی اشیا کا 43.14 فیصد بنتا ہے جبکہ 8 اشیا کی قیمتیں کم ہوئیں اور 21 اشیا کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ غیر غذائی اشیا میں سے کسی بھی چیز کی قیمت میں سالانہ بنیاد پر کمی نہیں ہوئی جس کا مطلب ہے کہ نان فوڈ آئٹمز کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں اب بھی بلند سطح پر موجود ہیں۔

WhatsApp
Get Alert