ماشاء اللہ مسجد فتح۔ جہاں غزوہ خندق میں رسول اللہ ﷺ کی دعا قبول ہوئی

مدینہ(قدرت روزنامہ)مدینہ منورہ میں جبلِ سلع کی مغربی ڈھلوان پر واقع مسجدِ فتح، مساجدِ سبع میں سب سے بڑی اور نمایاں تاریخی مسجد ہے۔ یہ مسجد مسجدِ نبوی ﷺ سے تقریباً 2.5 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور اسلامی تاریخ میں غزوۂ خندق کی اہم یادگاروں میں شمار ہوتی ہے۔
تاریخی پس منظر
5 ہجری میں پیش آنے والے غزوۂ خندق (غزوۂ احزاب) کے دوران یہی علاقہ مسلمانوں کے دفاعی محاذ کے قریب تھا، جبکہ جبلِ سلع مسلمانوں کے عقب میں قدرتی حفاظتی حصار کے طور پر موجود تھا۔
فضیلت اور تاریخی نسبت
مستند احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ احزاب کے دوران اس مقام پر اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعا فرمائی۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسلسل تین دن یہاں دعا فرمائی، اور بدھ کے دن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح و نصرت عطا فرمائی۔ اسی نسبت سے یہ مقام “مسجدِ فتح” کے نام سے مشہور ہوا۔
موجودہ مسجد
موجودہ مسجد سعودی دور میں ازسرِ نو تعمیر اور توسیع کے بعد پہلے کے مقابلے میں زیادہ کشادہ ہو چکی ہے، اور اس کا اندرونی رقبہ تقریباً 456 مربع میٹر ہے۔ مسجد اپنی سادہ مگر خوبصورت اسلامی طرزِ تعمیر کے باعث زائرین کی توجہ کا مرکز رہتی ہے۔
سبق
مسجدِ فتح ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مشکلات، آزمائشوں اور سخت حالات میں کامیابی کا راستہ صبر، استقامت، دعا اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل سے ہموار ہوتا ہے۔ غزوۂ خندق اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو ایمان، اتحاد اور اللہ کی مدد پر یقین کو تازہ کرتا ہے۔
دعا
اے اللہ! ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سنت پر ثابت قدم رہنے، ہر حال میں تجھ پر کامل بھروسہ کرنے، اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرنے، اور بار بار مدینہ منورہ کی باادب حاضری نصیب فرمانے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
ڈسکلیمر:
یہ تحریر قرآن، صحیح احادیث اور معتبر تاریخی مصادر کی روشنی میں معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے تیار کی گئی ہے۔ بعض تاریخی جزئیات اور تعمیراتی تفصیلات کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلافِ رائے موجود ہو سکتا ہے۔
