شہدا کی قربانیوں کو تنخواہ سے نہیں تولا جاسکتا، فضل الرحمن جیسے مولانا شہدا کے پاؤں کی خاک برابر بھی نہیں

لاہور (قدرت روزنامہ) پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنماء نے کہا ہے کہ شہدا کی قربانیوں کو تنخواہ سے نہیں تولا جاسکتا، فضل الرحمن جیسے مولانا شہدا کے پاؤں کی خاک برابر بھی نہیں۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں حنا پرویز بٹ نے سربراہ جےیوآئی ف مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کو تنخواہ سے نہیں تولا جا سکتا نہ یہ کسی شہید یا اس کے خاندان کی عوام اور وطن کی حفاظت کے لیے دی گئی عظیم قربانی کا بدلہ ہوسکتی ہے. یہ ایک قومی ذمہ داری ہے جسے نبھانے والے اللہ کے عظیم سپاہی ہیں۔
فضل الرحمن جیسے مولانا شہدا کے پاؤں کی خاک برابر بھی نہیں۔ ایسے مولانا حضرات قوم کو خوارج کے خلاف متحد کرنے کی بجائے اسے کنفیوز رکھتے ہیں
شہدا کی قربانیوں کو تنخواہ سے نہیں تولا جا سکتا نہ یہ کسی شہید یا اس کے خاندان کی عوام اور وطن کی حفاظت کے لیے دی گئی عظیم قربانی کا بدلہ ہو سکتی ہے. یہ ایک قومی ذمہ داری ہے جسے نبھانے والے اللہ کے عظیم سپاہی ہیں. فضل الرحمن جیسے مولانا شہدا کے پاؤں کی خاک برابر بھی نہیں. ایسے…
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) July 13, 2026
جس کی قیمت ہم ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی کی صورت ادا کر چکے ہیں۔
یاد رہے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سکیورٹی اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے تنخواہ لیتے ہیں، لہٰذا ان کا احسان نہ جتایا جائے۔ پنجاب کے ضلع قصور میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتا چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں، یہ آپ کا اختیار بنا ہوا ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے، مقتدرہ کے لوگ کوئی غیر نہیں، ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں، لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو سب کا ایک دائرۂ اختیار ہے، پارلیمنٹ، عدلیہ اور ہر محکمے کی طرح فوج کا بھی ایک دائرہ ہے، لہٰذا فوج کو صرف اپنی آئینی ذمہ داری پر نظر رکھنی چاہیے۔
جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ اکثر کہا جاتا ہے ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں، او بابا! تیرے جوانوں نے بیلٹ اور پیٹی اسی لیے باندھی ہے، وہ تنخواہ اسی کام کے لیے لے رہے ہیں کہ انہوں نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے، تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم عوام کے خون پسینے کی کمائی سے دیئے گئے ٹیکس سے اسی بات کی تنخواہ لیتے ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران ہمیں کہتے ہیں کہ تم خود لشکر نکالو اور اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو، میں نے ریاست سے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا، تم تو نوکری پوری کرکے چلے جاؤ گے، لیکن میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں اور مستقل قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو، یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، ہمیں مت سمجھایا کرو۔
