شہدا زیارت کے دھرنے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے ،قبائلی عمائدین ضلع زیارت وہرنائی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)شہداءِ زیارت کے دھرنے کو انتخابی سیاست نہیں بلکہ مظلوموں کی داد رسی کا ذریعہ بنایا جائے، سیاسی جماعتیں DHA Act اور Mines and Minerals Act کی منسوخی کا اعلان کریں
شہداءِ زیارت کے دھرنے کے حوالے سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس احتجاج کو قومی و سیاسی جماعتوں اور مختلف رہنماؤں کے لیے انتخابی یا سیاسی مہم کا ذریعہ بنانے کے بجائے مظلوم خاندانوں کی داد رسی، انصاف کی فراہمی اور ظلم کے خاتمے کا مؤثر وسیلہ بنایا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ شہداء کے لواحقین اپنے پیاروں کے جسدِ خاکی اس امید کے ساتھ دھرنے میں لائے ہیں کہ ان کی یہ قربانیاں آخری ثابت ہوں گی اور یہ احتجاج ظلم، جبر اور ناانصافی کے اس سلسلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا سبب بنے گا تاکہ آنے والی نسلیں امن اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ تاہم افسوس کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے کہ اس دھرنے کو اس کے حقیقی مقاصد سے ہٹا کر دانستہ طور پر انتخابی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دھرنے کے اسٹیج سے مختلف سیاسی رہنما یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ بلوچستان میں جاری خونریزی زمینوں، معدنی وسائل اور قومی دولت پر قبضے کی خاطر کی جا رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین DHA Act اور Mines and Minerals Act جیسے قوانین کی منظوری اور حمایت کے ذریعے اس عمل میں سہولت کار اور شریک رہے ہیں۔ ایسے میں ضروری تھا کہ وہ اس غمزدہ موقع پر اپنے ماضی کے فیصلوں پر نظرثانی کرتے ہوئے ان عوام دشمن قوانین کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ سیاسی جماعتیں فوری طور پر DHA Act اور Mines and Minerals Act کی منسوخی یا کم از کم معطلی کو اپنے مطالبات میں سرفہرست شامل کریں تاکہ بلوچستان کے معدنی وسائل اور قدرتی دولت پر یہاں کے عوام کا حق محفوظ بنایا جا سکے۔ ان بنیادی مطالبات کو نظر انداز کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ متعلقہ سیاسی جماعتیں اپنی سابقہ پالیسیوں پر آج بھی نظرثانی کے لیے تیار نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر سیاسی جماعتیں واقعی عوام کے حقوق اور مفادات کی علمبردار ہیں تو انہیں ان قوانین کے خاتمے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ بصورت دیگر یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ شہداءِ زیارت کے دھرنے کو محض سیاسی اور انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
آخر میں تمام سیاسی جماعتوں کے مخلص کارکنان سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی قیادت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اس دھرنے کو جماعتی مفادات کی نذر کرنے کے بجائے بلوچستان کے عوام کے حقوق، انصاف کی فراہمی اور قومی نجات کا حقیقی ذریعہ بنانے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

WhatsApp
Get Alert