حکومت کا تاریخ دشمن اقدام؛ قلات ڈویژن کی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ ثقافت اور شناخت پر حملہ ہے، نواب اسلم رئیسانی

عوامی مشاورت کے بغیر مسلط کردہ فیصلے ناقابلِ قبول؛ حکومت کی تاریخی ورثے کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش ناکام بنائیں گے، قبائلی و سیاسی رہنما مستونگ اور کچھی کی تقسیم کے غیر قانونی اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) بلوچستان میں ڈویژنل حدود اور انتظامی تقسیم سے متعلق حکومت بلوچستان کے حالیہ فیصلے کے خلاف سیاسی، قبائلی اور قانونی حلقوں کا ردعمل شدت اختیار کر گیا۔ قلات ڈویژن کی حیثیت ختم کرنے، ضلع مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن اور ضلع کچھی کو سبی ڈویژن میں شامل کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور سردارِ سردارانِ سراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی کی زیرِصدارت کوئٹہ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اس اقدام کو بلوچستان کی تاریخ، تہذیب، ثقافت اور قومی شناخت کے خلاف قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر مسترد کر دیا گیا۔
اجلاس میں چیف آف بیرک نواب محمد خان شاہوانی، سردار عاصم جان سرپرہ، ممتاز قانون دان ریاض احمد ایڈووکیٹ، عتیق احمد خان ایڈووکیٹ، غلام رسول لہڑی ایڈووکیٹ، محی الدین خان ایڈووکیٹ سمیت قبائلی عمائدین، سیاسی رہنماؤں، وکلاء اور دیگر معززین نے شرکت کی۔ شرکاء نے حکومتی نوٹیفکیشن کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ قلات ڈویژن کی تاریخی حیثیت ختم کرنا محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ بلوچستان کی تاریخ، شناخت اور اجتماعی شعور کے خلاف ایک منظم اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستونگ صدیوں سے تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی اور قبائلی اعتبار سے قلات کا حصہ رہا ہے، جسے انتظامی بنیادوں پر الگ کرنا تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستِ قلات کی اپنی منفرد تاریخی اور سیاسی شناخت ہے، جسے کسی حکومتی نوٹیفکیشن کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان پہلے ہی گورننس، امن و امان اور معاشی مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں عوامی مشاورت کے بغیر کیے گئے فیصلے مزید بے چینی اور اضطراب کو جنم دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتیں تاریخی ورثے اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ بلوچستان میں اس کے برعکس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں شریک ممتاز قانون دانوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کا یہ اقدام لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی متعلقہ دفعات سے بھی متصادم ہے، کیونکہ انتظامی حدود میں اس نوعیت کی تبدیلی کے لیے قانونی طریقہ کار، عوامی مشاورت اور دیگر آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ حکومتی اقدام کے خلاف ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔ شرکاء نے اعلان کیا کہ قلات ڈویژن کی تاریخی حیثیت، مستونگ اور کچھی کی شناخت کے تحفظ کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا، عوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی اور تمام سیاسی، سماجی، قبائلی اور قانونی قوتوں کو متحد کیا جائے گا۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ عوامی جذبات، تاریخی حقائق اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قلات ڈویژن سے متعلق فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert