ن لیگ کا ہر بحران میں مولانا فضل الرحمن کے در پر جانا اور اب اقتدار کے نشے میں تنقید کرنا سیاسی موقع پرستی ہے،عثمان بادینی
اختلافِ رائے سب کا حق ہے مگر اخلاقی حدود کو پامال کرنا ن لیگ کو زیب نہیں دیتا، جے یو آئی پروپیگنڈے سے مرعوب نہیں ہوگی

کوئٹہ/نوشکی (قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام کے رکن قومی اسمبلی میں چیف وہیپ ایم این اے حاجی میر محمد عثمان بادینی نے مسلم لیگ (ن)کے بعض اراکین کی جانب سے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کے خلاف کی جانے والی بیان بازی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے کھلی منافقت اورسیاسی موقع پرستی قرار دیا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلم لیگ(ن)کے رہنما آج جس انداز میں حضرت مولانا فضل الرحمان پر تنقید کر رہے ہیں، انہیں اپنا وہ دور بھی یاد رکھنا چاہیے جب یہی قیادت ہر سیاسی بحران میں مولانا فضل الرحمان کے گھر کا رخ کرتی تھی، ان سے ملاقاتیں کرتی تھی اور ان کی سیاسی بصیرت، تدبر اور کردار کی تعریفوں کے پل باندھتی تھی۔ آج اقتدار کے نشے میں وہی لوگ اپنے ماضی کو فراموش کرکے بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہے ہیں، جو افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔میر عثمان بادینی نے کہا کہ حضرت مولانا فضل الرحمان ملک کی سیاست کا ایک قدآور، اصولی اور باوقار کردار ہیں، جنہوں نے ہمیشہ آئین،جمہوریت اور پارلیمانی روایات کے تحفظ کے لیے اپنا مثر کردار ادا کیا ہے۔ ان کی سیاسی خدمات اور قربانیوں سے انکار ممکن نہیں، اس لیے ان کے خلاف محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے کی جانے والی بیان بازی نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ عوام کی نظروں میں اپنی ساکھ کو مزید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اختلافِ رائے ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، تاہم سیاسی شائستگی، اخلاقیات اور باہمی احترام کو پامال کرنا کسی بھی جماعت کے شایانِ شان نہیں۔ مسلم لیگ(ن)کو چاہیے کہ وہ اپنے رہنماوں کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے روکے اور ماضی کے اپنے سیاسی رویے کو بھی یاد رکھے، کیونکہ عوام سب کچھ جانتے ہیں اور سیاسی تاریخ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔میر عثمان بادینی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمعیت علمائے اسلام اپنے قائد حضرت مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اصولی سیاست، جمہوری اقدار اور عوامی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد پہلے کی طرح آئندہ بھی بھرپور انداز میں جاری رکھے گی اور بے بنیاد پروپیگنڈے یا منفی بیان بازی سے مرعوب نہیں ہو۔
