تاریخی اجتماع نے مقتدر حلقوں کی نیندیں اڑا دیں؛ مولانا فضل الرحمان کے خلاف پروپیگنڈہ انتشار پھیلانے کی سازش ہے: مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(ڈیلی قدرت) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ پنجاب کی سرزمین پر ریاستی وسائل، سرکاری مشینری، میڈیا سپورٹ اور تمام تر سیاسی سرپرستی کے باوجود ایسا عوامی سیلاب برپا کرنا آپ کے بس کی بات نہیں، جیسا جمعیت علماء اسلام نے کر دکھایا۔ مینارِ پاکستان کا تاریخی اجتماع دراصل عوامی ریفرنڈم ثابت ہوا، جس نے مصنوعی مقبولیت کے تمام دعوے زمین بوس کر دیے۔ یہی وہ منظر تھا جس نے اقتدار کے ایوانوں اور ان کے سرپرستوں کی نیندیں حرام کر دیں، کیونکہ جنہیں وہ “چند ملا، مولوی اور ملنگ” سمجھتے تھے، وہ لاکھوں انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی صورت میں ان کے سامنے کھڑے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کے خطاب کے ایک جملے کو سیاق و سباق سے کاٹ کر جھوٹا اور گمراہ کن بیانیہ تراشنا اسی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ اصل مقصد شہداء کے مقدس مقام کو متنازع بنانا نہیں بلکہ افواجِ پاکستان اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا، قومی اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنا اور انتشار کی سیاست کو فروغ دینا ہے۔ یہی عناصر ماضی میں بھی پاکستان تحریک انصاف اور ریاستی اداروں کے درمیان تصادم کی فضا پیدا کرنے کے اصل معمار تھے اور آج اسی کشمکش کے سیاسی ثمرات سمیٹتے ہوئے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ نو مئی کے افسوسناک واقعات کو سیاسی ہتھیار بنا کر قوم کو گمراہ کیا گیا، حالانکہ اگر محض سیاسی وابستگی ہی پیمانہ ہوتی تو خیبر پختونخوا، جہاں پی ٹی آئی برسوں برسرِ اقتدار رہی، وہاں بھی ایسے واقعات رونما ہونے چاہیے تھے، مگر ایسا نہیں ہوا، جس سے کئی بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں جن کے جوابات آج تک قوم کو نہیں دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہی کردار کشی، فتنہ انگیزی اور پروپیگنڈا سیاست آج بھی جاری ہے۔ چمن میں محمود خان کے کامیاب جلسے کے بعد منظم انداز میں ان کے خلاف زہر اگلا گیا، انہیں ریاست اور قومی اداروں کے خلاف کھڑا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تاکہ عوامی شعور کو گمراہ کیا جا سکے اور اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جائے۔ آج جب مولانا فضل الرحمن نے پنجاب کی دھرتی پر اپنی بے مثال عوامی قوت سے مخالفین کے تمام سیاسی غرور کو پاش پاش کر دیا ہے، تو وہ ایک بار پھر جھوٹ، بہتان، کردار کشی، نفسیاتی جنگ، فریب پر مبنی بیانیوں اور منظم پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ عوام اب سیاسی شعبدہ بازی، مصنوعی بیانیوں اور گمراہ کن مہمات سے دھوکا کھانے والے نہیں۔ جمعیت علماء اسلام اپنی آئینی، جمہوری، نظریاتی اور عوامی جدوجہد پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھے گی اور ہر محاذ پر جھوٹ، فریب اور پروپیگنڈے کا جواب عوامی طاقت، سیاسی بصیرت اور اصولی مؤقف سے دیتی رہے گی۔
