بلوچستان : فائرنگ، دھماکوں، حادثات کے متعدد واقعات میں 9 افراد جاں بحق 10 سے زائد زخمی ، 6 لاشیں برآمد

منگوچر میں مریضہ سمیت دو خواتین قتل، سوراب حادثے میں 3 اور کوئٹہ آتشزدگی میں 2 افراد جان سے گئے؛ مستونگ میں مال بردار گاڑیوں پر حملہ، پل اور گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ ) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایک ہی روز 21 جولائی 2026 کو فائرنگ، دھماکوں، ٹریفک حادثے، آتشزدگی، ڈکیتی اور دیگر جرائم کے متعدد واقعات میں کم از کم 9 افراد جاں بحق اور 10 سے زائد زخمی ہوگئے، جبکہ قلات، وندر، پنجگور اور مستونگ سے 6 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مقدمات درج کرکے تحقیقات اور سرچ آپریشن شروع کر دیے۔
ضلع قلات کی تحصیل منگوچر کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ژوب سے کراچی جانے والی فیلڈر گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں مریضہ سمیت دو خواتین جاں بحق جبکہ بچے سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق خواتین کا تعلق ژوب کے علاقے کلی اپوزئی سے تھا۔ زخمی مسافر نے بتایا کہ مسلح افراد نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا اور گاڑی رکنے سے پہلے ہی دو اطراف سے فائرنگ شروع کردی۔ واقعے کے بعد پولیس، لیویز، ایف سی اور دیگر اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔
کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سوراب کے علاقے نغاڑ میں دو کاروں کے تصادم کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے۔ جاں بحق اور زخمی افراد کا تعلق کوئٹہ، نوشکی اور پشین سے بتایا گیا ہے۔ لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال سوراب منتقل کردیا گیا۔
کوئٹہ کے علاقے سریاب کسٹم کے قریب ایک پیٹرول پمپ پر کھڑے آئل باؤزر میں آگ لگنے سے دو افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔ میٹروپولیٹن فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں نے کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور پیٹرول پمپ، قریبی گاڑیوں اور عمارتوں کو بڑے نقصان سے بچا لیا۔ آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ژوب کے علاقے تورہ خولہ میں موسلا دھار بارش کے دوران مکان کا کمرہ اور چھت منہدم ہونے سے دو سالہ بچہ ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگیا، جبکہ متعدد مکانات کو نقصان پہنچا۔ ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقے میں نقصانات کا تخمینہ لگانے اور متاثرین کو امداد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔
قلات کے علاقے ریج سے دو نامعلوم افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں جبکہ چھپر سے تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی۔ تینوں لاشیں شناخت کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال قلات منتقل کردی گئیں۔ وندر میں میراں پیر روڈ کے قریب ایک زرعی فارم سے 30 سالہ اصغر علی ساکن کراچی کی لاش ملی، جس کے جسم پر پانچ گولیوں کے نشانات تھے۔
پنجگور کی نیوان ندی سے ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی، جبکہ گرمکان میں گاڑی سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔ مستونگ کے علاقے جنگل سے بھی ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی، جسے شناخت کے لیے اسپتال کے مردہ خانے میں رکھ دیا گیا۔
مستونگ کے علاقے دشت میں این-65 قومی شاہراہ پر محمد حسنی چیک پوسٹ کے قریب ضیاء اللہ ہوٹل کے مقام پر ایل پی جی باؤزر اور ٹرالروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق آئی ای ڈی دھماکے میں ڈرائیور شکیل احمد جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے، جبکہ ایک گیس باؤزر اور دو ٹرالر جل کر تباہ ہوگئے۔ پولیس نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرکے تحقیقات شروع کردیں۔
مستونگ ہی میں نامعلوم افراد نے این-25 قومی شاہراہ پر کھڈکوچہ کے علاقے کلی گورو میں ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا، جس سے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگئی۔ دوسرے واقعے میں دشت کے علاقے سپیزنڈ میں گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ کردی گئی، جس کے باعث گیس کی فراہمی متاثر ہوئی۔ سیکیورٹی فورسز نے دونوں علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔
دالبندین سے اغوا ہونے والے تین ایکسائز اہلکار یک مچ کے علاقے سے بحفاظت بازیاب ہوگئے، تاہم اغواکار دو سرکاری گاڑیاں اور اسلحہ ساتھ لے گئے۔ ایک اور واقعے میں چارسر کے مقام پر مسلح افراد اشیائے خورونوش سے لدی مزدا کوچ چھین کر فرار ہوگئے۔
نصیرآباد، ڈیرہ مراد جمالی اور بھاگ میں ڈکیتی اور چوری کی متعدد وارداتوں میں موٹر سائیکلیں، ٹریکٹر ٹرالی، موبائل فون، نقد رقم اور انورٹر چھین لیے گئے۔ حاجی شہر تھانے کی حدود میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر محمد مراد کلواڑ کو گولی مار کر زخمی کردیا گیا۔ ایک اور واردات میں ٹریکٹر ڈرائیور اور کلینر کو باندھ کر جھاڑیوں میں پھینک دیا گیا اور ملزمان ٹریکٹر ٹرالی لے گئے۔ صحبت پور کے علاقے عادل پور میں پولیس چیک پوسٹ کے قریب آٹا چکی کے تالے توڑ کر سولر انورٹر، پنکھے اور دیگر سامان چوری کرلیا گیا۔
ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے چھتر فلیجی میں ساوند اور کہیری قبائل کے درمیان دو ہفتوں سے جاری فائرنگ کے باعث دو زرعی ٹیوب ویل تباہ اور درجنوں بھیڑ بکریاں ہلاک ہوگئیں۔ مسلسل فائرنگ سے مقامی آبادی محصور ہوگئی، جبکہ بعض خاندانوں نے نقل مکانی شروع کردی۔
تربت ٹیچنگ ہسپتال میں مسلح افراد نے داخل ہوکر ڈاکٹروں اور طبی عملے کو دھمکیاں دیں اور ہوائی فائرنگ کی۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ملزمان کی فوری گرفتاری اور اسپتالوں میں فول پروف سیکیورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام نظریاتی نے خاران میں حافظ کبیر احمد ایچباڑی اور ان کے بیٹے کے قتل اور اہل خانہ پر مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert