چھٹا آل پاکستان چیف منسٹر بلوچستان گولڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ 26 جولائی سے شروع ہوگا

؛ 90 ٹاپ ٹیمیں مدمقابل "فاتح ٹیم کے لیے 30 لاکھ روپے انعام؛ افتتاحی میچ بلوچ کلب نوشکی اور افغان کلب چمن کے مابین کھیلا جائے گا، مینا مجید بلوچ


مستونگ میں دو نوجوان کھلاڑیوں کا قتل انتہائی افسوسناک ہے؛ فٹبالرز پر لاکھوں کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے: سیکرٹری کھیل درا بلوچ
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)چھٹا آل پاکستان چیف منسٹر بلوچستان گولڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ کا آغاز 26 جولائی سے ہوگا جبکہ ایونٹ کا فائنل 10 اگست کو ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ میں بلوچستان سمیت ملک بھر سے 90 ٹاپ ٹیمیں حصہ لیں گی۔
ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں مشیر وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے کھیل، امور نوجوانان و ثقافت مینا مجید بلوچ نے سیکرٹری اسپورٹس درا بلوچ اور ڈی جی اسپورٹس یاسر بازئی کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ افتتاحی میچ بلوچ کلب نوشکی اور افغان کلب چمن کے مابین کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کو 30 لاکھ روپے، رنر اپ کو 15 لاکھ روپے جبکہ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کو 5 لاکھ روپے نقد انعام کے ساتھ ٹرافیاں بھی دی جائیں گی۔ میچز کوئٹہ کے چار مختلف مقامات پر منعقد ہوں گے جس میں شائقینِ فٹبال کی کثیر تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ ٹورنامنٹ کے لیے بہترین مینجمنٹ اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں، جو صوبے کا سافٹ امیج اجاگر کرنے اور نوجوانوں میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔

اس موقع پر سیکرٹری کھیل درا بلوچ نے مستونگ کے علاقے شمس آباد میں 9 جولائی کو دو نوجوان کھلاڑیوں کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ کسی بھی کھلاڑی کو نشانہ بنانا پورے کھیلوں کے شعبے کا مشترکہ دکھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل بھائی چارے، برداشت اور باہمی احترام کا درس دیتے ہیں، اور ملک بھر سے ٹیموں کو مدعو کرنے کا مقصد نوجوانوں میں ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔
درا بلوچ نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خواہش ہے کہ آل پاکستان فٹبال گولڈ کپ کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے۔ یہ وزیراعلیٰ بلوچستان فٹبال گولڈ کپ کا چھٹا ایڈیشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ 24 برس بعد پاکستان کی فٹبال ٹیم کی کامیابی میں بلوچستان کے کھلاڑیوں نے نمایاں کردار ادا کیا، قومی ٹیم کے کئی کھلاڑی اسی فٹبال گولڈ کپ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ اگر اس ایونٹ کا تسلسل برقرار رہا تو مستقبل میں قومی ٹیم مزید مضبوط ہوگی۔
سیکرٹری کھیل کا کہنا تھا کہ آج فٹبالرز لاکھوں روپے میں کھیل رہے ہیں جو اس کھیل کے فروغ کی مثبت علامت ہے اور باصلاحیت کھلاڑیوں پر لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کھیلوں کے میدان میں آئیں، اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

WhatsApp
Get Alert