خلیج تعاون کونسل نے اقوام متحدہ سے ایران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا

واشنگٹن(قدرت روزنامہ)عرب ممالک کی تنظم خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے ایران اور یمن کے حوثی گروپ پر خطے کی سلامتی اور عالمی بحری تجارت کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ حوثیوں کی طرف سے باب المندب آبنائے کو بند کرنے کی دھمکیاں عالمی امن اور بین الاقوامی تجارت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں اس لیے عالمی برادری کو ان پر فوری احتساب اور سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ بین الاقوامی قوانین، بحری راستوں کی آزادی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے مزید الزام عائد کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں، سمندری بارودی سرنگیں بچھانے، مخصوص بحری راستے مسلط کرنے کی کوششوں اور اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کرنے کی بار بار دھمکیوں کے ذریعے عالمی جہاز رانی کی آزادی کو متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید سنگین ہونے سے روکنے کے لیے مشترکہ اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی امن کو درپیش خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔
