مستونگ میں ججز پر دہشت گرد حملہ نظامِ انصاف پر حملہ ہے؛ بلوچستان بار کونسل کی شدید مذمت “
صوبہ بھر میں 2 روزہ عدالتی ہڑتال اور 3 روزہ سوگ کا اعلان

ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان بار کونسل نے مستونگ میں پیش آنے والے ہولناک دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں ایک معزز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور ان کا سیکیورٹی گارڈ شہید، جبکہ ایک ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی ہو گئے۔
بار کونسل کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق یہ بزدلانہ حملہ نہ صرف عدلیہ بلکہ قانون کی حکمرانی اور نظامِ انصاف پر بھی حملہ ہے۔ اپنے آئینی اور قانونی فرائض انجام دینے والے معزز ججز کو نشانہ بنانا ایک ناقابلِ برداشت دہشت گردی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ بلوچستان بار کونسل نے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمی ایڈیشنل سیشن جج کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں عدلیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ہڑتال اور سوگ کا اعلان:
اس المناک واقعے کے خلاف احتجاج، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور زخمی جج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بلوچستان بار کونسل نے پورے صوبہ بلوچستان میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ تمام وکلاء سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس ہڑتال میں بھرپور شرکت کریں اور انتہائی ہنگامی نوعیت کے مقدمات کے علاوہ عدالتوں میں پیش نہ ہوں۔
حکومت اور اداروں سے مطالبات:
بلوچستان بار کونسل نے حکومتِ بلوچستان اور تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:
ججز، وکلاء، عدالتی عملے اور عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری، مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
صوبے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات نے خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے جس کا سدباب ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، لہٰذا اس سفاک حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
بیان کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وکلاء برادری دہشت گردی کے خلاف اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہمیشہ متحد رہے گی۔
