بلوچستان کو اپنے حصے کا پانی نہ مل سکا، زرعی معیشت تباہی کے دہانے پر “محکمہ آبپاشی کی نااہلی، پٹ فیڈر اور کھیرتھر کینال کے ٹیل تک پانی نہ پہنچ سکا، 52 ڈگری کی قیامت خیز گرمی میں فصلیں سوکھ گئیں
گڈو اور سکھر بیراج پر پانی موجود مگر بلوچستان محروم، کسانوں کا احتجاج اور دھرنوں کا الٹی میٹم، میر محمد امین عمرانی کا انتباہ

نصیرآباد(قدرت روزنامہ)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر بلوچستان میر محمد امین عمرانی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پٹ فیڈر کینال اور کھیرتھر کینال سے سیراب ہونے والے علاقوں کی زراعت پانی کی شدید قلت کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوری طور پر بلوچستان کو اس کے حصے کا مکمل پانی فراہم نہ کیا گیا تو کاشتکاروں کے پاس احتجاج اور دھرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
میر محمد امین عمرانی نے کہا کہ اگرچہ اس سال پانی کچھ تاخیر سے چھوڑا گیا، تاہم جون کے آغاز میں علاقے تک پہنچ گیا تھا، لیکن پورا جون صرف پینے کے پانی کے لیے مختص رہا اور اس دوران بھی اکثر شاخوں کے ٹیل ایریاز تک پانی نہ پہنچ سکا، جس کے باعث تالاب تک نہیں بھرے جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ روٹیشن شروع ہونے کے بعد بھی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی، کیونکہ ہر شاخ کو مقررہ وقت پر مکمل پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ ایریگیشن مینجمنٹ کے افسران مسلسل یہ مقف اختیار کر رہے ہیں کہ گڈو بیراج سے بلوچستان کو پورا پانی مل رہا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ تین سے چار شاخوں پر مشتمل روٹیشن کے باوجود کسی بھی شاخ کو اس کا مکمل حصہ نہیں مل رہا۔میر محمد امین عمرانی نے کہا کہ عمرانی شاخ، ٹیپل شاخ، قیدی شاخ اور بالان شاخ ، مگسی شاخ سمیت متعدد شاخوں میں پانچ روز گزرنے کے باوجود پانی ٹیل تک پہنچنا تو درکنار، پہلے ڈپ سے دوسرے ڈپ تک بھی نہیں پہنچ پا رہا، جس سے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کو مسلسل دلاسے دیے جا رہے ہیں، لیکن اب یہ صورتحال مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔
اگر یہی حالات برقرار رہے تو کاشتکار مجبور ہو کر گزشتہ برسوں کی طرح سڑکوں پر نکلیں گے اور اس بار احتجاج محض علامتی نہیں بلکہ اپنے حقوق کے حصول تک جاری رہے گا۔انہوں نے صوبائی وزیر آبپاشی بلوچستان میر محمد صادق عمرانی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت گڈو بیراج پر تقریبا 1,63,800 کیوسک پانی موجود ہے، جس کے مطابق بلوچستان کا حصہ 19 ہزار کیوسک سے زائد بنتا ہے، مگر پٹ فیڈر کینال کو اس کا مقررہ 6,700 کیوسک پانی بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔
اسی طرح سکھر بیراج پر تقریبا 96 ہزار کیوسک پانی موجود ہے، جبکہ کھیرتھر کینال کے لیے بلوچستان کا حصہ تقریبا 11 ہزار کیوسک بنتا ہے، لیکن سندھ کی جانب سے تقریبا 2,400 کیوسک پانی نہیں دیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب سے پانی نہ ملنے کا مقف درست ہے تو پھر گڈو اور سکھر بیراج پر اتنی بڑی مقدار میں پانی کہاں سے آیا؟ جبکہ سندھ کی دیگر نہروں کو اضافی پانی فراہم کیا جا رہا ہے، مگر بلوچستان کی دونوں اہم نہریں اپنے مقررہ حصے سے بھی محروم ہیں۔
میر محمد امین عمرانی نے کہا کہ شدید گرمی، 52 ڈگری درجہ حرارت اور پانی کی عدم دستیابی کے باعث نہ صرف فصلیں تباہ ہو رہی ہیں بلکہ لوگ پینے کے پانی کے لیے بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان دونوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں ہیں، اس لیے عوام کو احتجاج پر مجبور کرنا مناسب نہیں۔انہوں نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور سے اپیل کی کہ بلوچستان کے حصے کا مکمل پانی فوری طور پر فراہم کیا جائے تاکہ کسانوں کو درپیش سنگین مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اور زرعی معیشت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔
