بلوچستان میں صحافت پر خطر بن چکا ہے آزادی صحافت کیلئے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کئی صحافی ٹارگٹ کلنگ میں شہید کیئے جاچکے حکومت وقت ملک خصوصا بلوچستان کے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے۔ سینئر صحافی اینکر پرسن حامد میر

بولان(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی ومعروف اینکر پرسن حامد میر اور سینئر صحافی مطیع اللہ جان سے ڈھاڈر پریس کلب بولان کے صحافیوں کے وفد نے صدر محمد عارف بنگلزئی کی قیادت میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ملاقات کی وفد میں عبدالحئی گولہ، سمیع اللہ جلبانی، رئیس نوروز خان ایری شامل تھے وفد نے ملاقات کے دوران بلوچستان میں صحافت کو درپیش مسائل صحافیوں کو پیش آنے والے خطرات اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اس موقع پر میر صحافت حامد میر نے پریس کلب ڈھاڈر بولان کے وفد سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں صحافت کرنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے صوبے کے صحافیوں کی جرات حوصلے اور پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود عوام تک درست اور بروقت معلومات پہنچانا قابل تحسین عمل ہے انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ، آزادی صحافت اور پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ میڈیا کے نمائندے بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں آخر میں ڈھاڈر پریس کلب بولان کے وفد نے سینئر صحافی حامد میر اور مطیع اللہ جان کے قیمتی وقت دینے پر شکریہ ادا کیا اور انہیں ڈھاڈر پریس کلب بولان آنے کی دعوت دی۔
