بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے ہر نتیجہ خیز کوشش کی مکمل حمایت کرتے ہیں،مسائل کا دیرپا حل آئینی بالادستی، بامعنی مذاکرات اور سیاسی مفاہمت میں مضمر ہے، سینیٹر مولانا عبدالواسع

وفاق وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترقی اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرے، صوبائی امیر کا زور
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت امن و امان کے حوالے سے ایک نہایت نازک، تشویشناک اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جہاں تمام قومی و سیاسی ترجیحات سے بڑھ کر قیامِ امن کو اولین ترجیح دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے کی جانے والی ہر سنجیدہ، مخلصانہ اور نتیجہ خیز کوشش کی نہ صرف مکمل حمایت کرتی ہے بلکہ اس سلسلے میں ہر ممکن مثبت، تعمیری اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے بھی ہر سطح پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ شورش زدہ، تشویشناک اور غیر یقینی صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ تمام سیاسی، انتظامی اور ریاستی ترجیحات سے بالاتر ہو کر قیامِ امن، عوام کے جان و مال کا تحفظ، ریاست پر عوامی اعتماد کی بحالی اور سیاسی استحکام کو اولین ترجیح دی جائے، اگر حالات کو بروقت سیاسی بصیرت، دانشمندی اور قومی ذمہ داری کے ساتھ نہ سنبھالا گیا تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل محض انتظامی یا سکیورٹی نوعیت کے نہیں بلکہ بنیادی طور پر سیاسی ہیں، اس لیے ان کا دیرپا حل بھی آئینی بالادستی، بامعنی مذاکرات، وسیع تر قومی مکالمے، باہمی اعتماد اور سیاسی مفاہمت ہی میں مضمر ہے، جبکہ محض طاقت اور ردِعمل کے بجائے تدبر اور سیاسی حکمت ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کو وسیع القلبی، سیاسی فراست اور آئینی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے مؤثر اعتماد ساز اقدامات کرنے ہوں گے جن سے بلوچستان کے عوام کے حقِ رائے دہی، حقِ حکمرانی، وسائل پر آئینی حقوق، باعزت روزگار اور مساوی ترقیاتی مواقع یقینی بنائے جا سکیں، جبکہ مائنز اینڈ منرلز بل، لیویز فورس کے انضمام، اضلاع و ڈویڑنز کی جغرافیائی حد بندی، سرحدی تجارت، بارڈر سے وابستہ روزگار اور دیگر عوامی و معاشی معاملات پر یکطرفہ فیصلوں کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، منتخب عوامی نمائندوں، سول سوسائٹی اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر وسیع تر مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں، کیونکہ عوامی اعتماد کے بغیر نہ پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی سیاسی استحکام ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل اور قومی حیثیت اس امر کی متقاضی ہے کہ صوبے کے معاملات کو صرف سکیورٹی کے تناظر میں نہیں بلکہ سیاسی، آئینی، معاشی اور عوامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے، نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے، قانونی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے اجتناب کیا جائے جن سے عوام میں احساسِ محرومی اور بے اعتمادی میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہر دور میں بلوچستان کے آئینی حقوق، قومی تشخص، جمہوری اقدار اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے بے مثال سیاسی جدوجہد کی، لازوال قربانیاں دیں اور محدود وسائل، سخت حالات اور بے شمار مشکلات کے باوجود نہ کبھی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے دی اور نہ ہی صوبے کے اجتماعی حقوق پر کوئی سمجھوتہ کیا، یہی وجہ ہے کہ جمعیت علمائ اسلام آج بلوچستان کی سب سے بڑی عوامی نمائندہ سیاسی قوت کی حیثیت رکھتی ہے اور صوبے کے تمام اضلاع، تمام اکائیوں اور ہر مکتب فکر میں یکساں عوامی اعتماد اور مقبولیت کی حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ شورش زدہ ماحول میں تمام سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں، قبائلی عمائدین، اہلِ دانش، سول سوسائٹی اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کو سیاسی وابستگیوں اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر بلوچستان کے وسیع تر مفاد، قیامِ امن اور مسئلے کے دیرپا سیاسی حل کے لیے آگے بڑھنا ہوگا، اپنی اپنی قابلِ عمل اور حقیقت پسندانہ تجاویز پیش کرنے ہوں گی اور اجتماعی دانش، سنجیدہ مذاکرات، باہمی اعتماد اور قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ایسی جامع حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی جو بلوچستان کو موجودہ بحران سے نکال کر امن، استحکام، خوشحالی اور مضبوط وفاق کی ضمانت بن سکے۔
