کوئٹہ، بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں اگست کے دوران موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کیے جانے کا امکان
سیکیورٹی خدشات اور یومِ آزادی کے پیش نظر تجویز زیرِ غور، انٹرنیٹ بندش سے کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں آئندہ ماہ اگست کے دوران موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ محکمہ داخلہ کے ذرائع نے خبر رساں ادارے یو این اے کو بتایا ہے کہ صوبے میں موجودہ سکیورٹی صورتحال، حساس تنصیبات کو لاحق ممکنہ خطرات اور ماہ اگست کے دوران موصول ہونے والے سکیورٹی تھریڈز کے پیش نظر موبائل انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر بند رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے محکمہ داخلہ کو پیش کی گئی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کوئٹہ، گرد و نواح اور بلوچستان کے متعدد اضلاع میں سکیورٹی کے حوالے سے ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بعض شرپسند عناصر قومی اہمیت کے حامل ایام، بالخصوص یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہی خدشات کی بنیاد پر موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروس کی عارضی معطلی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں کی سفارشات کو حتمی منظوری مل جاتی ہے تو اگست کے دوران مختلف اضلاع میں مرحلہ وار یا مکمل طور پر موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کی جا سکتی ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر بعض علاقوں میں سروس کئی روز تک بند رکھنے کا بھی امکان موجود ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ سکیورٹی اداروں، محکمہ داخلہ اور صوبائی حکومت کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا ذرائع کے مطابق گزشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی یومِ آزادی، حساس سرکاری تنصیبات، مذہبی اجتماعات اور دیگر اہم تقریبات کے موقع پر غیر معمولی حفاظتی اقدامات اختیار کیے جا رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کا دائرہ بھی وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تخریب کاری کے منصوبے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے سکیورٹی حکام کے مطابق موبائل انٹرنیٹ سروس کی ممکنہ معطلی کا مقصد عوام کو مشکلات میں ڈالنا نہیں بلکہ دہشت گرد عناصر کے درمیان رابطوں کو محدود کرنا، ریموٹ کنٹرول ڈیوائسز کے ممکنہ استعمال کی روک تھام اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو مثر بنانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض حساس علاقوں میں اضافی پولیس، لیویز، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے دوسری جانب شہریوں، تاجروں، طلبہ، آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد اور فری لانسرز نے ممکنہ انٹرنیٹ بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل دورانیے تک موبائل انٹرنیٹ کی بندش سے کاروباری سرگرمیاں، بینکنگ، آن لائن لین دین، تعلیمی سرگرمیاں اور روزمرہ کے معاملات شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پابندی ناگزیر ہو تو اسے صرف انتہائی حساس علاقوں اور محدود وقت تک رکھا جائے تاکہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تاہم محکمہ داخلہ اور حساس اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی فیصلہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
